Transliteration: (Allazeena dalla sa'yuhum fil hayaatid dunyaa wa hum yahsaboona annahum yuhsinoona sun'aa)
{اَلَّذِیْنَ:وہ لوگ۔} اس سے پہلی آیت میں اعمال کے اعتبار سے سب سے زیادہ خسارے والے لوگوں کی خبر دینے کے بارے میں فرمایا، اب ا س آیت میں فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کی ساری کوشش دنیا کی زندگی میں برباد ہو گئی اور عمل باطل ہوگئے حالانکہ وہ اس گمان میں ہیں کہ وہ اچھا کام کررہے ہیں جو انہیں آخرت میں نفع دے گا۔( روح البیان، الکہف، تحت الآیۃ: ۱۰۴، ۵ / ۳۰۴)
بدکار سے زیادہ بد نصیب:
یہ آیتِ مبارکہ بنیادی طور پر تو کافروں کے متعلق ہے لیکن اس سے اشارتاً یہ بھی معلوم ہوا کہ بدکار سے زیادہ بد نصیب وہ نیکوکار ہے جو محنت مشقت اٹھا کر نیکیاں کرے مگر اس کی کوئی نیکی اس کے کام نہ آئے، وہ اس دھوکے میں رہے کہ میں نیکو کار ہوں ۔ ہم اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتے ہیں ۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الكهف آیت 104 تفسیر