Transliteration: (Afahasibal lazeena kafarooo any yattakhizoo 'ibaadee min dooneee awliyaaa'; innaaa a'tadnaa jahannama lil kaafireena nuzulaa)
{اَفَحَسِبَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا:تو کیا کافر سمجھتے ہیں ۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ کیا کافر یہ سمجھتے ہیں کہ میرے بندوں جیسے حضرت عیسیٰ، حضرت عزیر عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور فرشتوں کو میرے سوا حمایتی بنالیں گے اور ان سے کچھ نفع پائیں گے؟ ان کایہ گمان فاسد ہے ،بلکہ وہ بندے انہیں اپنا دشمن سمجھتے اور ان سے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں ۔( روح البیان، الکہف، تحت الآیۃ: ۱۰۲، ۵ / ۳۰۳، خازن، الکہف، تحت الآیۃ: ۱۰۲، ۳ / ۲۲۷، ملتقطاً)اور کافروں کا گمان فاسد ہونے کی وجہ صاف ظاہر ہے کہ انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، اولیاء رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اور ملائکہ، ایمان والوں کے مددگار ہوکر ان کی شفاعت کریں گے نہ کہ کافروں کی۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الكهف آیت 102 تفسیر