Transliteration: (Qul law kaanal bahru midaadal li kalimaati Rabbee lanafidal bahru qabla an tanfada Kalimaatu Rabbee wa law ji'naa bimislihee madadaa)
{قُلْ:تم فرمادو۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کے علم و حکمت کے کلمات لکھے جائیں اور اُن کے لئے تمام سمندروں کا پانی سیاہی بنادیا جائے اور تمام مخلوق لکھے تو وہ کلمات ختم نہ ہوں اور یہ تمام پانی ختم ہوجائے اور اتنا ہی اور بھی ختم ہوجائے ۔ مُدَّعا یہ ہے کہ اس کے علم و حکمت کی کوئی انتہاء نہیں ۔ شانِ نزول : حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہ یہودیوں نے کہا: اے محمد! (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) آپ کا خیال ہے کہ ہمیں حکمت دی گئی اور آپ کی کتاب میں ہے کہ جسے حکمت دی گئی اُسے خیرِ کثیر دی گئی، پھر آپ کیسے فرماتے ہیں کہ تمہیں تھوڑا علم دیا گیا ہے! اس پر یہ آیت ِکریمہ نازل ہوئی۔ ایک قول یہ ہے کہ جب آیت ِکریمہ ’’ وَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیْلًا ‘‘ نازل ہوئی تو یہودیوں نے کہا کہ ہمیں توریت کا علم دیا گیا اور اس میں ہر شے کا علم ہے، اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی۔ مدعا یہ ہے کہ ہر شے کا علم بھی علمِ الٰہی کے حضور قلیل ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کے علم سے اتنی بھی نسبت نہیں رکھتا جتنی ایک قطرے کو سمندر سے ہو۔( خازن، الکہف، تحت الآیۃ: ۱۰۹، ۳ / ۲۲۷-۲۲۸)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الكهف آیت 109 تفسیر