{ قُلْ: تم فرماؤ۔} اصحاب ِ کہف کے قیام کی مدت بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا کہ اگر لوگ اس مدت میں جھگڑا کریں تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہی کا فرمانا برحق ہے لہٰذا تم ان سے کہہ دو کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ خوب جانتا ہے کہ وہ لوگ کتنا ٹھہرے تھے، خواہ وہ ان کے غار میں سونے والی مدت ہو یا تب سے لے کر اب تک کی مدت ہو، بہرحال اللّٰہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کیونکہ آسمانوں اور زمین کے سب غیبوں کا علم اسی کوہے ،کوئی ظاہر اور کوئی باطن اس سے چھپا نہیں ۔ اِس حصے کا شانِ نزول یہ ہے کہ نجران کے نصرانیوں نے کہا تھا کہ تین سو برس تک ٹھیک ہیں اور نو کی زیادتی کیسی ہے، اس کا ہمیں علم نہیں ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی۔( خازن، الکھف، تحت الآیۃ: ۲۶، ۳ / ۲۰۸)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الكهف آیت 25 تفسیر