قرآن - 18:27 سورہ الكهف ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

27
وَٱتۡلُ مَآ أُوحِيَ إِلَيۡكَ مِن كِتَابِ رَبِّكَۖ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَٰتِهِۦ وَلَن تَجِدَ مِن دُونِهِۦ مُلۡتَحَدٗا

Transliteration: (Watlu maaa oohiya ilaika min Kitaabi Rabbika laa mubaddila li Kalimaatihee wa lan tajida min doonihee multahadaa)

ترجمہ: کنزالایمان - وَ اتْلُ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنْ كِتَابِ رَبِّكَۚ- لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖۚ-وَ لَنْ تَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًا(27) || اور تلاوت کرو جو تمہارے رب کی کتاب تمہیں وحی ہوئی اس کی باتوں کا کوئی بدلنے والا نہیں اور ہرگز تم اس کے سوا پناہ نہ پاؤ گے۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور اپنے رب کی کتاب سے اس وحی کی تلاوت کرو جو آپ کی طرف بھیجی گئی ہے ۔اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں اور تم ہرگز اس کے سوا کوئی پناہ نہ پاؤ گے۔ || اور اپنے رب کی کتاب سے اس وحی کی تلاوت کرو جو آپ کی طرف بھیجی گئی ہے ۔اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں اور تم ہرگز اس کے سوا کوئی پناہ نہ پاؤ گے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الكهف آیت 27 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ اتْلُ: اور تلاوت کر۔} جب اللّٰہ تعالیٰ نے اصحابِ کہف کے واقعے پر مشتمل آیات نازل فرما دیں  تو ا س آیت میں  اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو حکم دیا کہ آپ قرآنِ پاک کی تلاوت کرتے رہیں  اور کفار کی ان باتوں  کی پروا نہ کریں  کہ آپ اس کے علاوہ کوئی اور قرآن لے آئیں  یا اسے تبدیل کر دیں ۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی باتوں  کو بدلنے پر کوئی قادر نہیں ۔(ابوسعود، الکہف، تحت الآیۃ: ۲۶-۲۷، ۳ / ۳۷۶-۳۷۷)

قرآنِ مجید کی تلاوت کرنی چاہئے اگرچہ سمجھ میں  نہ آئے:

            ا س آیتِ مبارکہ میں  تلاوت کا بیان اصحاب ِ کہف کے واقعے کے اختتام کے طور پر ہے لیکن قرآنِ پاک کے عمومی الفاظ کا اعتبار کرتے ہوئے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مُطْلَقاً بھی قرآنِ پاک کی تلاوت کرنی چاہیے، سمجھ میں  آئے یا نہ آئے۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now