قرآن - 18:35 سورہ الكهف ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

35
وَدَخَلَ جَنَّتَهُۥ وَهُوَ ظَالِمٞ لِّنَفۡسِهِۦ قَالَ مَآ أَظُنُّ أَن تَبِيدَ هَٰذِهِۦٓ أَبَدٗا

ترجمہ: کنزالایمان - وَ دَخَلَ جَنَّتَهٗ وَ هُوَ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖۚ-قَالَ مَاۤ اَظُنُّ اَنْ تَبِیْدَ هٰذِهٖۤ اَبَدًا(35) || اپنے باغ میں گیا اور اپنی جان پر ظلم کرتا ہوا بولا مجھے گمان نہیں کہ یہ کبھی فنا ہو۔ ترجمہ: کنزالعرفان اوروہ اپنے باغ میں گیا حالانکہ وہ اپنی جان پر ظلم کرنے والا تھا ، کہنے لگا: میں گمان نہیں کرتا کہ یہ (باغ) کبھی فنا ہوگا۔ || اوروہ اپنے باغ میں گیا حالانکہ وہ اپنی جان پر ظلم کرنے والا تھا ، کہنے لگا: میں گمان نہیں کرتا کہ یہ (باغ) کبھی فنا ہوگا۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الكهف آیت 35 تفسیر


صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ دَخَلَ جَنَّتَهٗ:اور وہ اپنے باغ میں  گیا۔} یہاں  سے اس کافر کی غافلانہ باتوں  کی ابتداء ہوتی ہے چنانچہ وہ باغات کا مالک مسلمان کا ہاتھ پکڑ کر اس کو ساتھ لے کر باغ میں  گیا ، وہاں  اسے فخریہ طور پر ہر طرف لے کرپھرا اور مسلمان کو ہر ہر  چیز دکھائی اور پھر باغ کی زینت و زیبائش اور رونق و بہار دیکھ کر مغرور ہوگیا اور کہنے لگا: میں  گمان نہیں  کرتا کہ یہ باغ کبھی فنا ہوگا یعنی ساری عمر مجھے پھل دیتا رہے گا۔( خازن، الکھف، تحت الآیۃ: ۳۵، ۳ / ۲۱۱، ملخصاً)اس سے معلوم ہوا کہ وہ کافر بھی تھا، ناشکرا بھی اور متکبر بھی، اور یہ بھی معلوم ہوا کہ دنیاوی دولت غافل کے لئے زیادہ جرم کرنے کا باعث ہو جاتی ہے۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now