{وَ دَخَلَ جَنَّتَهٗ:اور وہ اپنے باغ میں گیا۔} یہاں سے اس کافر کی غافلانہ باتوں کی ابتداء ہوتی ہے چنانچہ وہ باغات کا مالک مسلمان کا ہاتھ پکڑ کر اس کو ساتھ لے کر باغ میں گیا ، وہاں اسے فخریہ طور پر ہر طرف لے کرپھرا اور مسلمان کو ہر ہر چیز دکھائی اور پھر باغ کی زینت و زیبائش اور رونق و بہار دیکھ کر مغرور ہوگیا اور کہنے لگا: میں گمان نہیں کرتا کہ یہ باغ کبھی فنا ہوگا یعنی ساری عمر مجھے پھل دیتا رہے گا۔( خازن، الکھف، تحت الآیۃ: ۳۵، ۳ / ۲۱۱، ملخصاً)اس سے معلوم ہوا کہ وہ کافر بھی تھا، ناشکرا بھی اور متکبر بھی، اور یہ بھی معلوم ہوا کہ دنیاوی دولت غافل کے لئے زیادہ جرم کرنے کا باعث ہو جاتی ہے۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الكهف آیت 35 تفسیر