قرآن - 18:36 سورہ الكهف ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

36
وَمَآ أَظُنُّ ٱلسَّاعَةَ قَآئِمَةٗ وَلَئِن رُّدِدتُّ إِلَىٰ رَبِّي لَأَجِدَنَّ خَيۡرٗا مِّنۡهَا مُنقَلَبٗا

Transliteration: (Wa maaa azunnus Saa'ata qaaa'imatanw wa la'ir rudittu ilaa Rabbee la ajidanna khairam minhaa munqalabaa)

ترجمہ: کنزالایمان - وَّ مَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآىٕمَةًۙ-وَّ لَىٕنْ رُّدِدْتُّ اِلٰى رَبِّیْ لَاَجِدَنَّ خَیْرًا مِّنْهَا مُنْقَلَبًا(36) || اور میں گمان نہیں کرتا کہ قیامت قائم ہواور اگر میں اپنے رب کی طرف پھر کر گیا بھی تو ضرور اس باغ سے بہتر پلٹنے کی جگہ پاؤں گا۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور میں گمان نہیں کرتا کہ قیامت قائم ہونے والی ہے اور اگر مجھے میرے رب کی طرف لوٹایا بھی گیا تو میں ضرور اس باغ سے بہتر پلٹنے کی جگہ پالو ں گا۔ || اور میں گمان نہیں کرتا کہ قیامت قائم ہونے والی ہے اور اگر مجھے میرے رب کی طرف لوٹایا بھی گیا تو میں ضرور اس باغ سے بہتر پلٹنے کی جگہ پالو ں گا۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الكهف آیت 36 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ مَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآىٕمَةً:اور میں  گمان نہیں  کرتا کہ قیامت قائم ہونے والی ہے۔} باغ کے کافر مالک نے کہا کہ مجھے تواس بات کا گمان بھی نہیں  ہے کہ قیامت قائم ہوگی جیسے تیرا گمان ہے بلکہ مجھے یقین ہے کہ قیامت نہ آئے گی اور اگر  بالفرض قیامت آبھی گئی تو مجھے آخرت میں  بھی اس دنیوی باغ سے بہتر باغ دیا جائے گا کیونکہ دنیا میں  بھی میں  نے بہترین جگہ پائی ہے۔( خازن، الکھف، تحت الآیۃ: ۳۶، ۳ / ۲۱۱، ملخصاً)

آیت’’ وَ مَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:

            اس آیت سے دو باتیں  معلوم ہوئیں

(1)…برے اعمال کرکے جنت کی آس لگانی کافروں  کا شیوہ ہے، جَو کاشت کرکے گندم کاٹنے کی امید نہیں  رکھنی چاہیے۔

(2)… دنیا میں  مال ملنے کو اللّٰہ تعالیٰ کی رضا کی علامت سمجھنا کفار کا کام ہے۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now