Transliteration: (Fa'asaa Rabeee any yu'tiyani khairam min jannatika wa yursila 'alaihaa husbaanam minas samaaa'i fatusbiha sa'eedan zalaqaa)
{فَعَسٰى: تو قریب ہے۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ مسلمان نے مزید کہا کہ قریب ہے یعنی ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ میرا رب عَزَّوَجَلَّ مجھے تیرے باغ سے بہتر عطا فرما دے اور تیرے باغ پر آسمان سے بجلیاں گرا دے تو وہ چٹیل میدان ہوکر رہ جائے کہ اس میں سبزہ کا نام و نشان باقی نہ رہے اور اپنی زندگی ہی میں تو اس باغ کو برباد ہوتا ہوا دیکھے اور کف ِ افسوس ملتا رہ جائے یا اس باغ کا پانی زمین میں دھنس جائے اور نیچے چلا جائے کہ کسی طرح نکالا نہ جاسکے۔( خازن، الکھف، تحت الآیۃ: ۴۰-۴۲، ۳ / ۲۱۱-۲۱۲، ملخصاً) چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ عذاب آگیا اور اگلی آیات میں اسی کا بیان ہے۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الكهف آیت 40 تفسیر