Transliteration: (Wa uheeta bisamarihee faasbaha yuqallibu kaffaihi 'alaa maaa anfaqa feehaa wa hiya khaawiyatun 'alaa 'urooshihaa wa yaqoolu yaalaitanee lam ushrik bi Rabbeee ahadaa)
{وَ اُحِیْطَ بِثَمَرِهٖ:اور اس کے پھل گھیر لئے گئے۔} ارشاد فرمایا کہ اس کافر کے باغ پر عذاب آگیا اور باغ کے ساتھ ساتھ اس کے دیگر ہر طرح کے مال و اَسباب پھل ہلاکت میں گھیر لیے گئے اور باغ بالکل ویران ہوگیا تو وہ حسرت کے ساتھ ان اخراجات پر اپنے ہاتھ ملتا رہ گیا جو اس نے باغ کی دیکھ بھال میں خرچ کئے تھے اور وہ باغ اپنی چھتوں کے بل اوندھے منہ گرگیا ، پھر اس حال کو پہنچ کر اسے مو من کی نصیحت یاد آئی اور وہ سمجھا کہ یہ اُس کے کفرو سرکشی کا نتیجہ ہے اور اس وقت وہ کہنے لگا کہ اے کاش! میں نے اپنے رب عَزَّوَجَلَّکے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہوتا۔( خازن، الکھف، تحت الآیۃ: ۴۲، ۳ / ۲۱۲)
{هُنَالِكَ: یہاں پتہ چلتا ہے۔} آیت کے آخر میں اس واقعے کا سبق بیان فرمایا ہے کہ یہاں پتہ چلتا ہے اور ایسے حالات میں معلوم ہوتا ہیکہ تمام اختیار ات اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے دست ِ قدرت میں ہیں ۔ وہی چاہے تو پھلوں سے لدے ہوئے باغات عطا فرما دے اور وہ چاہے تو ایک لمحے میں سب کچھ تہس نہس کردے۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الكهف آیت 42 تفسیر