قرآن - 18:42 سورہ الكهف ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

42
وَأُحِيطَ بِثَمَرِهِۦ فَأَصۡبَحَ يُقَلِّبُ كَفَّيۡهِ عَلَىٰ مَآ أَنفَقَ فِيهَا وَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا وَيَقُولُ يَٰلَيۡتَنِي لَمۡ أُشۡرِكۡ بِرَبِّيٓ أَحَدٗا

Transliteration: (Wa uheeta bisamarihee faasbaha yuqallibu kaffaihi 'alaa maaa anfaqa feehaa wa hiya khaawiyatun 'alaa 'urooshihaa wa yaqoolu yaalaitanee lam ushrik bi Rabbeee ahadaa)

ترجمہ: کنزالایمان - وَ اُحِیْطَ بِثَمَرِهٖ فَاَصْبَحَ یُقَلِّبُ كَفَّیْهِ عَلٰى مَاۤ اَنْفَقَ فِیْهَا وَ هِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا وَ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُشْرِكْ بِرَبِّیْۤ اَحَدًا(42)وَ لَمْ تَكُنْ لَّهٗ فِئَةٌ یَّنْصُرُوْنَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ مَا كَانَ مُنْتَصِرًاﭤ(43)هُنَالِكَ الْوَلَایَةُ لِلّٰهِ الْحَقِّؕ-هُوَ خَیْرٌ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ عُقْبًا(44) || اور اس کے پھل گھیر لیے گئے تو اپنے ہاتھ ملتا رہ گیا اس لاگت پر جو اس باغ میں خرچ کی تھی اور وہ اپنی ٹَٹِّیُوں (چھپّروں ) پر گرا ہوا تھا اور کہہ رہا ہے اے کاش میں نے اپنے رب کا کسی کو شریک نہ کیا ہوتا۔ اور اس کے پاس کوئی جماعت نہ تھی کہ اللہ کے سامنے اس کی مدد کرتی نہ وہ بدلہ لینے (کے) قابل تھا۔ یہاں کھلتا ہے کہ اختیار سچے اللہ کا ہے اس کا ثواب سب سے بہتر اور اسے ماننے کا انجام سب سے بھلا۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور اس کے پھل گھیر لیے گئے تو وہ ان اخراجات پر اپنے ہاتھ ملتا رہ گیا جو اس باغ میں خرچ کئے تھے اور وہ باغ اپنی چھتوں کے بل اوندھے منہ گرا ہواتھااوروہ مالک کہہ رہا ہے، اے کاش!میں نے اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہوتا۔ اور اس کے پاس کوئی جماعت نہ تھی جو اللہ کے سامنے اس کی مدد کرتی اور نہ ہی وہ خود بدلہ لینے کے قابل تھا۔ یہاں پتہ چلتا ہے کہ تمام اختیار سچے اللہ کا ہے، وہ سب سے بہتر ثواب دینے والا اور سب سے اچھا انجام عطا فرمانے والا ہے۔ || اور اس کے پھل گھیر لیے گئے تو وہ ان اخراجات پر اپنے ہاتھ ملتا رہ گیا جو اس باغ میں خرچ کئے تھے اور وہ باغ اپنی چھتوں کے بل اوندھے منہ گرا ہواتھااوروہ مالک کہہ رہا ہے، اے کاش!میں نے اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہوتا۔ اور اس کے پاس کوئی جماعت نہ تھی جو اللہ کے سامنے اس کی مدد کرتی اور نہ ہی وہ خود بدلہ لینے کے قابل تھا۔ یہاں پتہ چلتا ہے کہ تمام اختیار سچے اللہ کا ہے، وہ سب سے بہتر ثواب دینے والا اور سب سے اچھا انجام عطا فرمانے والا ہے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الكهف آیت 42 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ اُحِیْطَ بِثَمَرِهٖ:اور اس کے پھل گھیر لئے گئے۔} ارشاد فرمایا کہ اس کافر کے باغ پر عذاب آگیا اور باغ کے ساتھ ساتھ اس کے دیگر ہر طرح کے مال و اَسباب پھل ہلاکت میں  گھیر لیے گئے اور باغ بالکل ویران ہوگیا تو وہ حسرت کے ساتھ ان اخراجات پر اپنے ہاتھ ملتا رہ گیا جو اس نے باغ کی دیکھ بھال میں  خرچ کئے تھے اور وہ باغ اپنی چھتوں  کے بل اوندھے منہ گرگیا ، پھر اس حال کو پہنچ کر اسے مو من کی نصیحت یاد آئی اور وہ سمجھا کہ یہ اُس کے کفرو سرکشی کا نتیجہ ہے اور اس وقت وہ کہنے لگا کہ  اے کاش! میں  نے اپنے رب عَزَّوَجَلَّکے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہوتا۔( خازن، الکھف، تحت الآیۃ: ۴۲، ۳ / ۲۱۲)

{هُنَالِكَ: یہاں  پتہ چلتا ہے۔} آیت کے آخر میں  اس واقعے کا سبق بیان فرمایا ہے کہ یہاں  پتہ چلتا ہے  اور ایسے حالات میں  معلوم ہوتا ہیکہ تمام اختیار ات اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے دست ِ قدرت میں  ہیں ۔ وہی چاہے تو پھلوں  سے لدے ہوئے باغات عطا فرما دے اور وہ چاہے تو ایک لمحے میں  سب کچھ تہس نہس کردے۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now