قرآن - 18:46 سورہ الكهف ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

46
ٱلۡمَالُ وَٱلۡبَنُونَ زِينَةُ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَاۖ وَٱلۡبَٰقِيَٰتُ ٱلصَّـٰلِحَٰتُ خَيۡرٌ عِندَ رَبِّكَ ثَوَابٗا وَخَيۡرٌ أَمَلٗا

Transliteration: (Almaalu walbanoona zeenatul hayaatid dunya wal baaqiyaatus saalihaatu khairun 'inda Rabbika sawaabanw wa khairun amalaa)

ترجمہ: کنزالایمان - اَلْمَالُ وَ الْبَنُوْنَ زِیْنَةُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَاۚ-وَ الْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ اَمَلًا(46) || مال اور بیٹے یہ جیتی دنیا کا سنگار ہے اور باقی رہنے والی اچھی باتیں ان کا ثواب تمہارے رب کے یہاں بہتر اور وہ امید میں سب سے بھلی۔ ترجمہ: کنزالعرفان مال اور بیٹے دنیا کی زندگی کی رونق ہیں اور باقی رہنے والی اچھی باتیں تیرے رب کے نزدیک ثواب کے اعتبار سے زیادہ بہتر اور امید کے اعتبار سے زیادہ اچھی ہیں ۔ || مال اور بیٹے دنیا کی زندگی کی رونق ہیں اور باقی رہنے والی اچھی باتیں تیرے رب کے نزدیک ثواب کے اعتبار سے زیادہ بہتر اور امید کے اعتبار سے زیادہ اچھی ہیں ۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الكهف آیت 46 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{زِیْنَةُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا: دنیا کی زندگی کی زینت۔} دنیا کے مال و اَسباب کے بارے میں  مزید فرمایا کہ مال اور بیٹے دنیا کی زندگی کی رونق ہیں  کہ ان کے ذریعے دنیا میں  آدمی فخر کرتا ہے اور انہیں  دنیا کی سہولیات و لذّات حاصل کرنے کا ذریعہ بناتا ہے حالانکہ انہی چیزوں  کو آخرت کا زاد ِ راہ تیار کرنے کا ذریعہ بھی بنایا جاسکتا ہے۔ حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا کہ مال و اولاد دنیا کی کھیتی ہیں  اور اعمالِ صالحہ آخرت کی اور اللّٰہ تعالیٰ اپنے بہت سے بندوں  کو یہ سب عطا فرماتا ہے۔( خازن، الکھف، تحت الآیۃ: ۴۶، ۳ / ۲۱۲-۲۱۳)دوسری چیز باقیاتِ صالحات ہیں  ، ان سے نیک اعمال مراد ہیں  جن کے ثمرے انسان کے لئے باقی رہتے ہیں ، جیسا کہ پنج گانہ نمازیں  اور تسبیح و تحمید اور جملہ عبادات ۔حدیث شریف میں  ہے، سرکارِ دوعالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے باقیاتِ صالحات کی کثرت کا حکم فرمایا۔ عرض کی گئی:وہ کیا ہیں ؟ فرمایا : اَللّٰہُ اَکْبَرُ لَااِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہ پڑھنا۔(مسند امام احمد، مسند ابی سعید الخدری رضی اللّٰہ عنہ، ۴ / ۱۵۰،  الحدیث: ۱۱۷۱۳) البتہ یہ یاد رہے کہ مال اور اولاد فی نَفْسِہٖ تو اگرچہ دنیا ہیں  لیکن یہی دو چیزیں  آخرت کیلئے عظیم زاد ِ راہ بھی بن سکتی ہیں  کیونکہ اگر مال کو راہِ خدا میں  خرچ کیا اور خصوصاً کوئی صدقہ جاریہ کا کام کیا تو یہی مال نجات کا ذریعہ بنے گا اور یونہی اگر اولاد کی اچھی تربیت کی اور نیکی کے راستے پر لگایاتو ان کی نیکیوں  کا ثواب بھی ملے گا اور اس کے ساتھ اولاد کی دعائیں  بھی ملتی رہیں  گی۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now