قرآن - 18:47 سورہ الكهف ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

47
وَيَوۡمَ نُسَيِّرُ ٱلۡجِبَالَ وَتَرَى ٱلۡأَرۡضَ بَارِزَةٗ وَحَشَرۡنَٰهُمۡ فَلَمۡ نُغَادِرۡ مِنۡهُمۡ أَحَدٗا

Transliteration: (Wa yawma nusaiyirul jibaala wa taral arda baariza tanw wa hasharnaahum falam nughaadir minhum ahadaa)

ترجمہ: کنزالایمان - وَ یَوْمَ نُسَیِّرُ الْجِبَالَ وَ تَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةًۙ-وَّ حَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًا(47) || اور جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور تم زمین کو صاف کھلی ہوئی دیکھو گے اور ہم انہیں اٹھائیں گے تو ان میں سے کسی کو چھوڑ نہ دیں گے۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور یاد کرو جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور تم زمین کو صاف کھلی ہوئی دیکھو گے (جس پر پہاڑ وغیرہ کچھ بھی نہ ہوگا)اور ہم لوگوں کواٹھائیں گے تو ان میں سے کسی کو نہ چھوڑیں گے۔ || اور یاد کرو جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور تم زمین کو صاف کھلی ہوئی دیکھو گے (جس پر پہاڑ وغیرہ کچھ بھی نہ ہوگا)اور ہم لوگوں کواٹھائیں گے تو ان میں سے کسی کو نہ چھوڑیں گے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الكهف آیت 47 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ یَوْمَ نُسَیِّرُ الْجِبَالَ:اور جس دن ہم پہاڑوں  کو چلائیں  گے۔} دنیا کی فنائیت اور اسباب ِ دنیا کی حقیقت بیان کرنے کے بعد اب قیامت کی ہولناکی کا بیان کیا جارہا ہے، چنانچہ ارشاد فرمایا کہ یاد کرو جس دن ہم پہاڑوں  کو چلائیں  گے  کہ وہ اپنی جگہ سے اُکھڑ کر بادلوں  کی طرح اڑتے پھریں  گے اور ریزہ ریزہ ہوجائیں  گے اور تم زمین کو صاف کھلی ہوئی دیکھو گے جس پرنہ کوئی پہاڑ ہوگا ، نہ درخت، نہ عمارت بلکہ ایک چٹیل میدان ہوگا۔ اور ہم لوگوں  کو قبروں  سے اٹھائیں  گے اور میدانِ قیامت میں  حاضر کردیں  گے۔( خازن، الکھف، تحت الآیۃ: ۴۷، ۳ / ۲۱۳، ملخصاً)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now