Transliteration: (Wa yawma nusaiyirul jibaala wa taral arda baariza tanw wa hasharnaahum falam nughaadir minhum ahadaa)
{وَ یَوْمَ نُسَیِّرُ الْجِبَالَ:اور جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے۔} دنیا کی فنائیت اور اسباب ِ دنیا کی حقیقت بیان کرنے کے بعد اب قیامت کی ہولناکی کا بیان کیا جارہا ہے، چنانچہ ارشاد فرمایا کہ یاد کرو جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے کہ وہ اپنی جگہ سے اُکھڑ کر بادلوں کی طرح اڑتے پھریں گے اور ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اور تم زمین کو صاف کھلی ہوئی دیکھو گے جس پرنہ کوئی پہاڑ ہوگا ، نہ درخت، نہ عمارت بلکہ ایک چٹیل میدان ہوگا۔ اور ہم لوگوں کو قبروں سے اٹھائیں گے اور میدانِ قیامت میں حاضر کردیں گے۔( خازن، الکھف، تحت الآیۃ: ۴۷، ۳ / ۲۱۳، ملخصاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الكهف آیت 47 تفسیر