قرآن - 18:51 سورہ الكهف ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

51
۞مَّآ أَشۡهَدتُّهُمۡ خَلۡقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَلَا خَلۡقَ أَنفُسِهِمۡ وَمَا كُنتُ مُتَّخِذَ ٱلۡمُضِلِّينَ عَضُدٗا

Transliteration: (Maaa ash hattuhum khalqas samaawaati wal ardi wa laa khalqa anfusihim wa maa kuntu muttakhizal mudilleena 'adudaa)

ترجمہ: کنزالایمان - مَاۤ اَشْهَدْتُّهُمْ خَلْقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَا خَلْقَ اَنْفُسِهِمْ۪-وَ مَا كُنْتُ مُتَّخِذَ الْمُضِلِّیْنَ عَضُدًا(51) || نہ میں نے آسمانوں اور زمین کو بناتے وقت انہیں سامنے بٹھالیا تھا نہ خود ان کے بناتے وقت اور نہ میری شان کہ گمراہ کرنے والوں کو بازو بناؤں ۔ ترجمہ: کنزالعرفان نہ میں نے انہیں آسمانوں اور زمین کو بناتے وقت حاضر رکھاتھااور نہ خود ان کے بناتے وقت اور نہ میں گمراہ کرنے والوں کو مددگار بنانے والا ہوں ۔ || نہ میں نے انہیں آسمانوں اور زمین کو بناتے وقت حاضر رکھاتھااور نہ خود ان کے بناتے وقت اور نہ میں گمراہ کرنے والوں کو مددگار بنانے والا ہوں ۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الكهف آیت 51 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{مَاۤ اَشْهَدْتُّهُمْ: میں  نے انہیں  حاضر نہ رکھا تھا۔} ارشاد فرمایا کہ شیطان، اس کی اولاد نیز جن بتوں  یا چیزوں  کو مشرکین اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا شریک ٹھہراتے ہیں  ان میں  سے کسی کو نہ تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  نے آسمانوں  اور زمین کو بناتے وقت حاضر رکھا تھا اور نہ خود ان کے بناتے وقت حاضر رکھا تھا۔ مراد یہ ہے  کہ اَشیاء کے پیدا کرنے میں  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی ذات مُتَفَرِّد اور یگانہ ہے۔ نہ اس کا کوئی شریک ِ عمل ہے ،نہ کوئی مشیرِ کار، پھر اس کے سوا اور کسی کی عبادت کس طرح درست ہوسکتی ہے۔( خازن، الکھف، تحت الآیۃ: ۵۱، ۳ / ۲۱۵، مدارک، الکھف، تحت الآیۃ: ۵۱، ص۶۵۵، ملتقطاً)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now