Transliteration: (Maaa ash hattuhum khalqas samaawaati wal ardi wa laa khalqa anfusihim wa maa kuntu muttakhizal mudilleena 'adudaa)
{مَاۤ اَشْهَدْتُّهُمْ: میں نے انہیں حاضر نہ رکھا تھا۔} ارشاد فرمایا کہ شیطان، اس کی اولاد نیز جن بتوں یا چیزوں کو مشرکین اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا شریک ٹھہراتے ہیں ان میں سے کسی کو نہ تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے آسمانوں اور زمین کو بناتے وقت حاضر رکھا تھا اور نہ خود ان کے بناتے وقت حاضر رکھا تھا۔ مراد یہ ہے کہ اَشیاء کے پیدا کرنے میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی ذات مُتَفَرِّد اور یگانہ ہے۔ نہ اس کا کوئی شریک ِ عمل ہے ،نہ کوئی مشیرِ کار، پھر اس کے سوا اور کسی کی عبادت کس طرح درست ہوسکتی ہے۔( خازن، الکھف، تحت الآیۃ: ۵۱، ۳ / ۲۱۵، مدارک، الکھف، تحت الآیۃ: ۵۱، ص۶۵۵، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الكهف آیت 51 تفسیر