Transliteration: (Fantalaqaa hattaa izaa laqiyaa ghulaaman faqatalahoo qaala aqatalta nafsan zakiy yatam bighairi nafs; laqad ji'ta shai'an nukraa (End Juz 15))
{ فَانْطَلَقَا: پھر دونوں چلے۔} یعنی کشتی سے اتر کر وہ دونوں چلے اور ایک ایسے مقام پر گزرے جہاں لڑکے کھیل رہے تھے۔ وہاں انہیں ایک لڑکا ملا جوکافی خوبصورت تھا اور حدِ بلوغ کو نہ پہنچا تھا۔ بعض مفسرین نے کہا وہ لڑکا جوان تھا اور رہزنی کیا کرتا تھا۔ حضرت خضر عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اسے قتل کردیا۔ یہ دیکھ کر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے پھر نہ رہا گیا اور آپ نے فرمایا: کیا تم نے کسی جان کے بدلے کے بغیر ایک پاکیزہ جان جس کا کوئی گناہ ثابت نہ تھا کو قتل کردیا؟ بیشک تم نے بہت ناپسندیدہ کام کیا ہے۔(خازن، الکھف، تحت الآیۃ: ۷۴، ۳ / ۲۱۹-۲۲۰، ملخصاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الكهف آیت 74 تفسیر