Transliteration: (Qaala alam aqul laka innaka lan tastatee'a ma'iya sabraa)
{قَالَ:کہا۔} جب حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے حضرت خضر عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے فعل پر کلام فرمایا تو آپ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے کہا: اے موسیٰ! عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، میں نے آپ سے نہ کہا تھا کہ آپ ہرگز میرے ساتھ نہ ٹھہر سکیں گے۔اس بار حضرت خضر عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اپنے کلام میں لفظ’’لَكَ‘‘ کا اضافہ فرمایا کیونکہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے دوسری مرتبہ ان کے فعل پر کلام فرمایا تھا۔( خازن، الکہف، تحت الآیۃ: ۷۵، ۳ / ۲۲۰)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الكهف آیت 75 تفسیر