Transliteration: (Qul yaaa Ahlal Kitaabi lastum 'alaa shai'in hattaa tuqeemut Tawraata wal Injeela wa maaa unzila ilaikum mir Rabbikum; wa layazeedanna kaseeram minhum maa unzila ilaika mir Rabbika tugh yaananw wa kufran falaa taasa 'alal qawmil kaafireen)
{قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ:تم فرمادو اے کتابیو!} اہلِ کتاب سے فرمایا گیا کہ جب تک تم نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان نہیں لے آتے تب تک تم کسی دین و ملت پر نہیں ہو کیونکہ اگر حقیقی طور پر تم تورات و انجیل پرعمل کرو تو تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر بھی ایمان لے آؤ کیونکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان لانے کا حکم تورات و انجیل میں موجود ہے۔
{مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ: اے حبیب! یہ جو تمہاری طرف تمہارے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، جو قرآن آپ کی طرف آپ کے رب عَزَّوَجَلَّ کی جانب سے نازل کیا گیا ہے، یہ اہلِ کتاب کے علماء اور سرداروں کی پرانی سرکشی اور کفر میں اضافہ کرے گا کیونکہ آپ پر جب قرآنِ مجید کی کوئی آیت نازل ہوتی ہے تو یہ اس کا انکار کر دیتے ہیں اور اس طرح یہ اپنے کفروسرکشی میں اور زیادہ سخت ہوجاتے ہیں اس لئے اے حبیب !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، جو یہودی آپ کی نبوت کاانکار کر رہے اور آپ پر ایمان نہیں لا رہے ان کی وجہ سے آپ غمزدہ نہ ہوں کیونکہ ان کے اس کفرکا وبال انہی پر پڑے گا۔(روح البیان، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۶۸، ۲ / ۴۱۹، خازن، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۶۸، ۱ / ۵۱۱-۵۱۳، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ المائدة آیت 68 تفسیر