{لَقَدْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ:بیشک ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا۔} اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے توریت میں یہ عہد لیا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائیں اور حکمِ الٰہی کے مطابق عمل کریں لیکن انہوں نے یہ کیا کہ جب کبھی ان کے پاس کوئی رسول ان کی خواہشات کے برخلاف حکم لے کر آتے توانبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے کسی گروہ کو تو یہ جھٹلاتے اور کسی کو شہید کردیتے ۔ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تکذیب میں تو یہودو نصارٰی سب شریک ہیں مگر قتل کرنا یہ خاص یہودیوں کا کام ہے، اُنہوں نے بہت سے انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو شہید کیا جن میں سے حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بھی ہیں۔ یہ خیال رہے کہ کوئی نبی عَلَیْہِ السَّلَام جہاد میں کافروں کے ہاتھوں شہید نہیں ہوئے۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ المائدة آیت 70 تفسیر