قرآن - 74:55 سورہ المدثر ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

55
فَمَن شَآءَ ذَكَرَهُۥ

ترجمہ: کنزالایمان - كَلَّاۤ اِنَّهٗ تَذْكِرَةٌ(54)فَمَنْ شَآءَ ذَكَرَهٗﭤ(55)وَ مَا یَذْكُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُؕ-هُوَ اَهْلُ التَّقْوٰى وَ اَهْلُ الْمَغْفِرَةِ(56) || ہاں ہاں بے شک وہ نصیحت ہے۔ تو جو چاہے اس سے نصیحت لے۔ اور وہ کیا نصیحت مانیں مگر جب اللہ چاہے وہی ہے ڈرنے کے لائق اور اسی کی شان ہے مغفرت فرمانا۔ ترجمہ: کنزالعرفان سن لو! بیشک وہ نصیحت ہے۔ تو جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کرے ۔ اور وہ اللہ کے چاہنے سے ہی نصیحت حاصل کرسکتے ہیں ۔ وہی لائق ہے کہ(اس سے)ڈرا جائے اور مغفرت فرمانے والاہے ۔ || سن لو! بیشک وہ نصیحت ہے۔ تو جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کرے ۔ اور وہ اللہ کے چاہنے سے ہی نصیحت حاصل کرسکتے ہیں ۔ وہی لائق ہے کہ(اس سے)ڈرا جائے اور مغفرت فرمانے والاہے ۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ المدثر آیت 55 تفسیر


صراط الجنان — Siratul Jinan

{كَلَّا: سن لو!۔} اس آیت اوراس کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اے لوگو! سن لو، بیشک وہ قرآن شریف عظیم نصیحت ہے تو جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کرے کیونکہ اس کا فائدہ اسے ہی ہو گا اور وہ اللّٰہ تعالیٰ کے چاہنے سے ہی نصیحت حاصل کرسکتے ہیں  ۔وہی اللّٰہ اس لائق ہے کہ اس کے بندے اس سے ڈریں  اور ا س کے عذاب سے خوفزدہ ہوں ، اس پر ایمان لائیں  اور اس کی اطاعت کریں  اور وہی بندوں  کے سابقہ کفر اور گناہوں  کی مغفرت فرمانے والا ہے۔( خازن، المدثر، تحت الآیۃ: ۵۴-۵۶، ۴ / ۳۳۲)

اللّٰہ تعالیٰ سے ڈرنے کی فضیلت:

            حضرتِ انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس آیت ’’هُوَ اَهْلُ التَّقْوٰى وَ اَهْلُ الْمَغْفِرَةِ‘‘ کے بارے میں ارشاد فرمایا’’اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے’’میں  اس لائق ہوں  کہ مجھ سے ڈرا جائے لہٰذا جو مجھ سے ڈرا اور ا س نے میرے ساتھ کوئی دوسرا خدا نہ بنایا تو میں  اس بات کا اہل ہوں  کہ اسے بخش دوں ۔( ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ المدثر،۵ / ۲۱۷، الحدیث: ۳۳۳۹)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now