Transliteration: (Hattaaa izaaa akhaznaa mutrafeehim bil'azaabi izaa hum yaj'aroon)
{حَتّٰى: یہاں تک کہ۔} اس آیت میں کفار کے اعمال کا انجام بیا ن کیاگیا کہ کفار اپنے اعمال پر ہی قائم رہے یہاں تک کہ جب ہم نے ان کے خوشحال لوگوں کو عذاب میں پکڑا اور وہ بدر کے دن تلواروں سے قتل کئے گئے تو جبھی وہ فریاد کرنے لگے۔ ایک قول یہ ہے کہ اس عذاب سے مراد فاقوں اور بھوک کی وہ مصیبت ہے جو تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی دعا سے ان پر مُسَلّط کی گئی تھی اور اس قحط کی وجہ سے ان کی حالت یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ وہ کتّے اور مردار تک کھا گئے تھے۔( روح البیان، المؤمنون، تحت الآیۃ: ۶۴، ۶ / ۹۲، خازن، المؤمنون، تحت الآیۃ: ۶۴، ۳ / ۳۲۸، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ المؤمنون آیت 64 تفسیر