Transliteration: (Wa innaa 'alaaa an nuriyaka maa na'iduhum laqaadiroon)
{وَ اِنَّا: اور بیشک ہم۔} اس آیت میں ان کفار کو جواب دیا گیا ہے جو اُس عذاب کا انکار کرتے اور اس کی ہنسی اڑاتی تھے جس کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا، انہیں بتایا گیا کہ اگر تم غور کرو تو سمجھ لو گے کہ اللہ تعالیٰ اس وعدے کو پورا کرنے پر قادر ہے،تو پھر انکار کی وجہ اورمذاق اڑانے کا سبب کیا ہے ؟اور کفار کے عذاب میں جو تاخیر ہورہی ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی ایک حکمت یہ ہے کہ ان میں سے جو ایمان لانے والے ہیں وہ ایمان لے آئیں اور جن کی نسلیں ایمان لانے والی ہیں ان سے وہ نسلیں پیدا ہولیں ۔( مدارک، المؤمنون، تحت الآیۃ: ۹۵، ص۷۶۵، ابوسعود، المؤمنون، تحت الآیۃ: ۹۵، ۴ / ۶۳، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ المؤمنون آیت 95 تفسیر