Transliteration: (Qur Rabbi immmaa turiyannee maa yoo'adoon)
{قُلْ رَّبِّ: تم عرض کرو: اے میرے رب!} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، تم یوں دعاکرو کہ اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ، اگر تو مجھے وہ عذا ب دکھادے جس کا(دنیا میں ) ان کافروں سے وعدہ کیا جاتا ہے تو اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ، مجھے ان ظالموں میں شامل نہ کرنا اور ان کا ساتھی نہ بنانا۔( ابوسعود، المؤمنون، تحت الآیۃ: ۹۳-۹۴، ۴ / ۶۲)
یاد رہے کہ یہ بات یقینی طور پر معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو کفار کا ساتھی نہ بنائے گا،اس کے باوجود رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کاا س طرح دعا فرمانا، عاجزی اور بندگی کے اظہار کے طور پر ہے۔ اسی طرح انبیاءِ معصومین عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام استغفار کیا کرتے ہیں حالانکہ انہیں اپنی مغفرت اور اکرامِ خداوندی کا علم یقینی ہوتا ہے، یہ سب تواضع اور اظہارِبندگی کے طور پر ہے۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ المؤمنون آیت 93 تفسیر