قرآن - 23:93 سورہ المؤمنون ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

93
قُل رَّبِّ إِمَّا تُرِيَنِّي مَا يُوعَدُونَ

Transliteration: (Qur Rabbi immmaa turiyannee maa yoo'adoon)

ترجمہ: کنزالایمان - قُلْ رَّبِّ اِمَّا تُرِیَنِّیْ مَا یُوْعَدُوْنَ(93)رَبِّ فَلَا تَجْعَلْنِیْ فِی الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ(94) || تم عرض کرو کہ اے میرے رب اگر تو مجھے دکھائے جو انہیں وعدہ دیا جاتا ہے۔ تو اے میرے رب مجھے ان ظالموں کے ساتھ نہ کرنا۔ ترجمہ: کنزالعرفان تم عرض کرو: اے میرے رب! اگر تو مجھے وہ دکھادے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے۔ تو اے میرے رب! مجھے ان ظالموں میں (شامل) نہ کرنا۔ || تم عرض کرو: اے میرے رب! اگر تو مجھے وہ دکھادے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے۔ تو اے میرے رب! مجھے ان ظالموں میں (شامل) نہ کرنا۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ المؤمنون آیت 93 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{قُلْ رَّبِّ: تم عرض کرو: اے میرے رب!} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت میں   اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، تم یوں دعاکرو کہ اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ، اگر تو مجھے وہ عذا ب دکھادے جس کا(دنیا میں ) ان کافروں سے وعدہ کیا جاتا ہے تو اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ، مجھے ان ظالموں  میں  شامل نہ کرنا اور ان کا ساتھی نہ بنانا۔( ابوسعود، المؤمنون، تحت الآیۃ: ۹۳-۹۴، ۴ / ۶۲)

             یاد رہے کہ یہ بات یقینی طور پر معلوم ہے کہ  اللہ تعالیٰ اپنے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو کفار کا ساتھی نہ بنائے گا،اس کے باوجود رسول کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کاا س طرح دعا فرمانا، عاجزی اور بندگی کے اظہار کے طور پر ہے۔ اسی طرح انبیاءِ معصومین عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام استغفار کیا کرتے ہیں حالانکہ انہیں  اپنی مغفرت اور اکرامِ خداوندی کا علم یقینی ہوتا ہے، یہ سب تواضع اور اظہارِبندگی کے طور پر ہے۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now