Transliteration: (Sawaaa'un 'alaihim as taghfarta lahum am lam tastaghfir lahum lany yaghfiral laahu lahum; innal laaha laa yahdil qawmal faasiqeen)
{سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ اَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ اَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ: ان کے حق میں برابر ہے کہ تم ان کے لیے استغفار کرو یا ان کے لیے استغفار نہ کرو۔} یعنی اے حبیب ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،آ پ کا ان کیلئے استغفار کرنا اور نہ کرنا ان کے حق میں برابر ہے، اللّٰہ تعالیٰ انہیں ہر گز نہیں بخشے گاکیونکہ وہ نفاق میں راسخ اور پختہ ہوچکے ہیں ، بیشک اللّٰہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا جو ا س کے علم میں نافرمان ہیں ۔
یہ ارشاد اسی وقت تھا جب منافقوں کے لئے دعائے مغفرت کرنا ممنوع نہ تھا،بعد میں اس سے منع فرمادیا گیا ہے، لہٰذا اب منافقوں اور کافروں کے لئے مغفرت کی دعا کرنا منع ہے بلکہ کافر کیلئے دعائے مغفرت کرنا کفر ہے۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ المنافقون آیت 6 تفسیر