قرآن - 68:41 سورہ القلم ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

41
أَمۡ لَهُمۡ شُرَكَآءُ فَلۡيَأۡتُواْ بِشُرَكَآئِهِمۡ إِن كَانُواْ صَٰدِقِينَ

Transliteration: (Am lahum shurakaaa'u fal ya'too bishurakaaa 'ihim in kaanoo saadiqeen)

ترجمہ: کنزالایمان - سَلْهُمْ اَیُّهُمْ بِذٰلِكَ زَعِیْمٌ(40)اَمْ لَهُمْ شُرَكَآءُۚۛ-فَلْیَاْتُوْا بِشُرَكَآىٕهِمْ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِیْنَ(41) || تم ان سے پوچھو ان میں کون سا اس کا ضامن ہے۔ یا ان کے پاس کچھ شریک ہیں تو اپنے شریکوں کو لے کر آئیں اگر سچے ہیں ۔ ترجمہ: کنزالعرفان تم ان سے پوچھو کہ ان میں کون اس کا ضامن ہے؟ یا ان کیلئے کچھ شریک ہیں تو وہ اپنے شریکوں کو لے آئیں اگر سچے ہیں ۔ || تم ان سے پوچھو کہ ان میں کون اس کا ضامن ہے؟ یا ان کیلئے کچھ شریک ہیں تو وہ اپنے شریکوں کو لے آئیں اگر سچے ہیں ۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ القلم آیت 41 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{سَلْهُمْ: تم ان سے پوچھو۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو خطاب کرتے ہوئے ارشادفرمایا کہ اے پیارے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ ان کفار سے پوچھیں  کہ ان میں  سے کون اس بات کا ضامن ہے کہ آخرت میں  انہیں  مسلمانوں  سے بہتر یا اُن کے برابر ملے گا یا ان کے پاس کچھ شریک ہیں  جو اس دعوے میں  ان کی موافقت کررہے ہیں  اور وہ ان کے ذمہ دار بنے ہیں ، اگر وہ اپنے دعوے میں سچے ہیں تو اپنے ان شریکوں  کو لے آئیں  ۔حقیقت یہ ہے کہ وہ خود بھی سمجھتے ہیں  کہ وہ باطل پر ہیں ، نہ اُن کے پاس کوئی ایسی کتاب ہے جس میں  یہ مذکور ہو جو وہ کہتے ہیں ، نہ ان کے بارے میں  اللّٰہ تعالیٰ کا کوئی عہد ہے، نہ ان کا کوئی ضامن اورنہ ہی کوئی ان سے موافقت کرتا ہے ۔( مدارک، القلم، تحت الآیۃ: ۴۰-۴۱، ص۱۲۷۰، جلالین، ن، تحت الآیۃ: ۴۰-۴۱، ص۴۷۰، ملتقطاً)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now