Transliteration: (Am 'indahumul ghaibu fahum yaktuboon)
{اَمْ عِنْدَهُمُ الْغَیْبُ: یا ان کے پاس غیب کا علم ہے۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، کیا ان کفار کے پاس لوحِ محفوظ ہے جس میں آئندہ ہونے والے واقعات کی خبریں ہیں اور یہ لوگ اس میں موجودباتیں لکھ رہے ہیں اور ا س بنا ء پر آپ سے جھگڑ رہے ہیں اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ کفر کرنے کے باوجود اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایمان والوں سے اعلیٰ درجہ رکھتے ہیں ؟( تفسیر طبری، القلم، تحت الآیۃ: ۴۷، ۱۲ / ۲۰۲)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ القلم آیت 47 تفسیر