Transliteration: (Kazzabat Samoodu binnuzur)
{ كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ
بِالنُّذُرِ: ثمود نے ڈر سنانے والوں (رسولوں ) کو جھٹلایا۔}اس آیت
کی ایک تفسیر یہ ہے کہ قومِ ثمود نے اللہ تعالیٰ
کے عذاب سے ڈرانے والی باتوں اوران نصیحتوں کو جھٹلایا جو
انہوں نے حضرت صالح عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے سنی تھیں ۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ قومِ ثمود نے اپنے نبی
حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی دعوت کا انکار
کرکے اور ان پر ایمان نہ لا کر انہیں
جھٹلایا۔
یاد
رہے کہ قومِ ثمود نے اگرچہ صرف حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلایا تھا مگرچونکہ ایک نبی کا انکار سارے
نبیوں کا انکار شمار ہوتا ہے کیونکہ سب کا عقیدہ ایک ہی ہے اس لئے یہاں آیت
میں جمع کا صیغہ ’’ اَلنُّذُر‘‘ ذکر کیا گیا۔( ابو سعود، القمر،
تحت الآیۃ: ۲۳، ۵ / ۶۵۶، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ القمر آیت 23 تفسیر