قرآن - 101:3 سورہ القارعہ ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

3
وَمَآ أَدۡرَىٰكَ مَا ٱلۡقَارِعَةُ

ترجمہ: کنزالایمان - اَلْقَارِعَةُ(1)مَا الْقَارِعَةُ(2)وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْقَارِعَةُﭤ(3) || دل دہلانے والی۔ کیا وہ دہلانے والی ۔ اور تو نے کیا جانا کیا ہے دہلانے والی۔ ترجمہ: کنزالعرفان وہ دل دہلادینے والی۔ وہ دل دہلادینے والی کیاہے؟ اور تجھے کیا معلوم کہ وہ دل دہلادینے والی کیاہے؟ || وہ دل دہلادینے والی۔ وہ دل دہلادینے والی کیاہے؟ اور تجھے کیا معلوم کہ وہ دل دہلادینے والی کیاہے؟

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ القارعہ آیت 3 تفسیر


صراط الجنان — Siratul Jinan

{اَلْقَارِعَةُ: وہ دل دہلادینے والی۔} قارعہ قیامت کے ناموں  میں  سے ایک نام ہے اور ا س کا یہ نام اس لئے رکھا گیا کہ اس کی دہشت ،ہَولْناکی اور سختی سے (تمام انسانوں  کے) دل دہل جائیں  گے اور بعض مفسرین فرماتے ہیں  کہ حضرت اسرافیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی آواز کی وجہ سے قیامت کو ’’قارِعہ ‘‘ کہتے ہیں  کیونکہ جب وہ صُور میں  پھونک ماریں  گے تو ان کی پھونک کی آواز کی شدت سے تمام مخلوق مر جائے گی۔ (خازن، القارعۃ، تحت الآیۃ:۱، ۴ / ۴۰۳)

{وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْقَارِعَةُ: اور تجھے کیا معلوم کہ وہ دل دہلادینے والی کیاہے؟} علامہ احمد صاوی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں : اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ ،آپ قیامت کی ہَولْناکی، شدت اور دہشت کو ہماری طرف سے آنے والی وحی کے ذریعے ہی جان سکتے ہیں ۔تو یہاں  وحی کے بغیر قیامت کی ہَولْناکی کے علم کی نفی ہے(نہ کہ مُطلَق علم کی نفی ہے)۔( صاوی، القارعۃ، تحت الآیۃ: ۳، ۶ / ۲۴۱۳)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now