قرآن - 101:4 سورہ القارعہ ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

4
يَوۡمَ يَكُونُ ٱلنَّاسُ كَٱلۡفَرَاشِ ٱلۡمَبۡثُوثِ

Transliteration: (Yauma ya koonun naasu kal farashil mabthooth)

ترجمہ: کنزالایمان - یَوْمَ یَكُوْنُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِ(4) || جس دن آدمی ہوں گے جیسے پھیلے پتنگے ۔ ترجمہ: کنزالعرفان جس دن آدمی پھیلے ہوئے پروانوں کی طرح ہوں گے ۔ || جس دن آدمی پھیلے ہوئے پروانوں کی طرح ہوں گے ۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ القارعہ آیت 4 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{یَوْمَ یَكُوْنُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِ: جس دن آدمی پھیلے ہوئے پروانوں کی طرح ہوں  گے۔} یعنی جس طرح پروانے شعلے پر گرتے وقت مُنتَشِر ہوتے ہیں  اور ان کے لئے کوئی ایک جہت مُعَیَّن نہیں  ہوتی بلکہ ہر ایک دوسرے کے خلاف جہت سے جاتا ہے یہی حال قیامت کے دن مخلوق کے اِنتشار کا ہو گا کہ جب انہیں  قبروں  سے اٹھایا جائے گا تو وہ پھیلے ہوئے پروانوں کی طرح مُنتَشِر ہوں  گے اور ہر ایک دوسرے کے خلاف جہت کی طرف جا رہا ہو گا۔( خازن، القارعۃ، تحت الآیۃ: ۴، ۴ / ۴۰۳)

             یاد رہے کہ اس آیت میں  قبروں  سے اٹھتے وقت مخلوق کے اِنتشار کو پھیلے ہوئے پروانوں  کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے جبکہ ان آیات: ’’یَوْمَ یَدْعُ الدَّاعِ اِلٰى شَیْءٍ نُّكُرٍۙ(۶)خُشَّعًا اَبْصَارُهُمْ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ كَاَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنْتَشِرٌ‘‘( قمر:۶،۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: جس دن پکارنے والا ایک سخت انجان بات کی طرف بلائے گا۔(تو)ان کی آنکھیں  نیچے جھکی ہوئی ہوں گی۔ قبروں  سے یوں  نکلیں  گے گویا وہ پھیلی ہوئی ٹڈیاں  ہیں  ۔

            میں  مخلوق کی کثرت کی وجہ سے انہیں  پھیلی ہوئی ٹڈیوں  سے تشبیہ دی گئی ہے ۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now