Transliteration: (Qaala Rabbi innee zalamtu nafsee faghfir lee faghafaralah; innahoo Huwal Ghafoorur Raheem)
{قَالَ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ: عرض کی: اے میرے رب!میں نے اپنی جان پر زیادتی کی۔} حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا یہ کلام عاجزی اور اِنکساری کے طور پر ہے کیونکہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے کوئی مَعْصِیَت سرزد نہیں ہوئی۔ یاد رہے کہ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام معصوم ہیں ، ان سے گناہ نہیں ہوتے اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا قبطی کو مارنا در اصل ظلم دور کرنا اور مظلوم کی امداد کرنا تھا اور یہ کسی دین میں بھی گناہ نہیں ،پھر بھی اپنی طرف تقصیر کی نسبت کرنا اور استغفار چاہنا یہ اللہ تعالیٰ کے مُقَرَّب بندوں کا دستور ہی ہے۔( تفسیرکبیر، القصص، تحت الآیۃ: ۱۶، ۸ / ۵۸۵، ابو سعود، القصص، تحت الآیۃ: ۱۶، ۴ / ۲۲۸، قرطبی، القصص، تحت الآیۃ: ۱۶، ۷ / ۱۹۸، الجزء الثالث عشر، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ القصص آیت 16 تفسیر