Transliteration: (Wa an alqi 'asaaka falam maa ra aahaa tahtazzu ka annnahaa jaaannunw wallaa mudbiranw wa lam yu'aqqib; yaa Moosaa aqbil wa laa takhaf innaka minal aamineen)
{وَ اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ: اور یہ کہ تم اپنا عصاڈال دو۔} کوہِ طور پر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے یہ فرمایا گیا کہ تم اپنا عصا نیچے رکھ دو، چنانچہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے عصا نیچے رکھ دیا تووہ سانپ بن گیا اور جب اسے لہراتا ہوا دیکھا گویا کہ سانپ ہے تو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اس سے خوفزدہ ہوئے اور اس طرح پیٹھ پھیر کر چلے کہ آپ نے پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔ تب انہیں ندا کی گئی ’’ اے موسیٰ! سامنے آؤ اور ڈرو نہیں ،بیشک تم امن والوں میں سے ہو اور تمہیں کوئی خطرہ نہیں۔(مدارک، القصص، تحت الآیۃ: ۳۱، ص۸۶۹، خازن، القصص، تحت الآیۃ: ۳۱، ۳ / ۴۳۲، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ القصص آیت 31 تفسیر