Transliteration: (Usluk yadaka fee jaibika takhruj baidaaa'a min ghairi sooo'inw wadmum ilaika janaahaka minar rahbi fazaanika burhaanaani mir Rabbika ilaa Fir'awna wa mala'ih; innahum kaanoo qawman faasiqeen)
{اُسْلُكْ یَدَكَ فِیْ جَیْبِكَ: اپنا ہاتھ گریبان میں ڈالو۔} حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے مزید فرمایا گیا کہ اپنا ہاتھ اپنی قمیص کے گریبان میں ڈال کر نکالو تووہ کسی مرض کے بغیر سفید اور سورج کی شعاع کی طرح چمکتا ہوا نکلے گا۔ چنانچہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنا دست ِمبارک گریبان میں ڈال کر نکالا تو اس میں ایسی تیز چمک تھی جس سے نگاہیں جھپک گئیں ۔اس کے بعد ارشاد فرمایا: ’’اور خوف دور کرنے کیلئے اپنا ہاتھ اپنے ساتھ ملالو تاکہ ہاتھ اپنی اصلی حالت پر آئے اور خوف دور ہو جائے۔ یہاں جس خوف کا ذکر ہوا اس کے سبب کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ ہاتھ کی چمک دیکھ کر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دل میں خوف پیدا ہوا اور اس خوف کو دور کرنے کے لئے یہ طریقہ ارشاد فرمایا گیا ۔ دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے وہی خوف مراد ہے جو سانپ کو دیکھنے سے پیدا ہو اتھا،اسے آیت میں بیان کئے گئے طریقے سے دور کیا گیا ۔پھر ارشاد فرمایا کہ عصا اور روشن ہاتھ تیرے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف تمہاری رسالت کی دو بڑی دلیلیں ہیں ،بیشک وہ نافرمان لوگ ہیں اور وہ ظلم و سرکشی کی حد پار کر چکے ہیں ۔( مدارک، القصص، تحت الآیۃ: ۳۲، ص۸۶۹، خازن، القصص، تحت الآیۃ: ۳۲، ۳ / ۴۳۲، جلالین، القصص، تحت الآیۃ: ۳۲، ص۳۳۰، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ القصص آیت 32 تفسیر