Transliteration: (Falammaa jaaa'ahum Moosaa bi Aayaatinaa baiyinaatin qaaloo maa haazaaa illaa sihrum muftaranw wa maa sami'naa bihaazaa feee aabaaa'inal awwaleen)
{فَلَمَّا جَآءَهُمْ مُّوْسٰى بِاٰیٰتِنَا: پھر جب موسیٰ ان کے پاس ہماری روشن نشانیاں لے کر آئے۔} ارشاد فرمایاکہ جب حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام فرعون اور اس کی قوم کے پاس ہماری روشن نشانیاں لے کر آئے توان نشانیوں کا مشاہدہ کرنے کے بعد ان لوگوں نے کہا: یہ تو صرف ایک بناوٹی جادو ہے۔ان بدنصیبوں نے معجزات کا انکار کر دیا اور ان کو جادو بتا دیا اور ان کی ا س بات کا مطلب یہ تھا کہ جس طرح جادو کی تمام اَقسام باطل ہوتی ہیں اسی طرح (مَعَاذَ اللہ) یہ معجزات بھی ہیں ۔فرعونیوں نے مزید یہ کہاکہ جو دعوت آپ ہمیں دے رہے ہیں وہ ایسی نئی ہے کہ ہمارے آباؤ اَجداد میں بھی ایسی نہیں سنی گئی تھی ۔( مدارک، القصص، تحت الآیۃ: ۳۶، ص۸۷۰، تفسیرطبری، القصص، تحت الآیۃ: ۳۶، ۱۰ / ۷۳، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ القصص آیت 36 تفسیر