Transliteration: (Wa naza'naa min kulli ummatin shaheedan faqulnaa haatoo burhaanakum fa'alimooo annal haqqa lillaahi wa dalla 'anhum maa kaanoo yaftaroon (section 7))
{وَ نَزَعْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا: اور ہم ہر امت میں سے ایک گواہ نکال لیں گے۔} یعنی اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ہر امت میں سے ایک گواہ نکال کر لائے گا جو کہ اس امت کے رسول ہوں گے اور وہ اپنی اپنی اُمتوں پراس بات کی گواہی دیں گے کہ انہوں نے ان لوگوں تک اللہ تعالیٰ کے پیغام پہنچائے اور انہیں نصیحتیں کیں ۔ پھر اللہ تعالیٰ ہر امت سے ارشاد فرمائے گا: دنیا میں شرک اور رسولوں کی مخالفت کرناجو تمہارا شیوہ تھا، اس کے صحیح ہونے پر تمہارے پاس جو دلیل ہے وہ پیش کرو۔ تواس دن وہ جان لیں گے کہ اِلٰہ اور معبود ہونے کا حق صرف اللہ تعالیٰ ہی کیلئے ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں ،اوردنیا میں جو وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرا کر اور ان شریکوں کو اپنی شفاعت کرنے والا بتا کر جھوٹی باتیں بناتے تھے ،ان کی یہ سب باتیں ضائع ہو جائیں گی۔(مدارک، القصص، تحت الآیۃ: ۷۵، ص۸۷۹، جلالین، القصص، تحت الآیۃ: ۷۵، ص۳۳۳، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ القصص آیت 75 تفسیر