Transliteration: (Hal yanzuroona illaaa an taatiyahumul malaaa'ikatu aw yaatiya amru Rabbik; kazaalika fa'alal lazeena min qablihim; wa maa zalamahumul laahu wa laakin kaanoo anfusahum yazlimoon)
{هَلْ یَنْظُرُوْنَ:یہ کس چیز کا انتظار کررہے ہیں ۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، جن لوگوں نے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ شرک کیا اور آپ کی نبوت کو ماننے سے انکار کر دیا،یہ اس بات کا انتظار کررہے ہیں کہ ان کے پاس فرشتے ان کی روحیں قبض کرنے آجائیں یا تمہارے رب عَزَّوَجَلَّ کا دنیا میں یاروزِ قیامت والے عذاب کاحکم آجائے ۔ ان سے پہلی امتوں کے کفار نے بھی ایسے ہی کیا تھا ،انہوں نے اپنے رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلایا تو وہ ہلاک کر دئیے گئے اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے انہیں عذاب میں مبتلا کر کے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ یہ خود ہی کفر اختیار کرکے اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے۔( خازن، النحل، تحت الآیۃ: ۳۳، ۳ / ۱۲۱، جلالین، النحل، تحت الآیۃ: ۳۳، ص۲۱۸، ملتقطاً)
{فَاَصَابَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا:تو ان کے اعمال کی برائیاں ان پر آ پڑیں ۔} یعنی انہوں نے اپنے خبیث اعمال کی سزا پائی اور جس عذاب کا یہ مذاق اڑاتے تھے وہ ان پر نازل ہو گیا۔ (خازن، النحل، تحت الآیۃ: ۳۴، ۳ / ۱۲۱)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ النحل آیت 33 تفسیر