قرآن - 16:45 سورہ النحل ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

45
أَفَأَمِنَ ٱلَّذِينَ مَكَرُواْ ٱلسَّيِّـَٔاتِ أَن يَخۡسِفَ ٱللَّهُ بِهِمُ ٱلۡأَرۡضَ أَوۡ يَأۡتِيَهُمُ ٱلۡعَذَابُ مِنۡ حَيۡثُ لَا يَشۡعُرُونَ

Transliteration: (Afa aminal lazeena makarus saiyi aati ai yakhsifal laahu bihimul arda aw yaaa tiyahumul 'azaabu min haisu laa yash'uroon)

ترجمہ: کنزالایمان - اَفَاَمِنَ الَّذِیْنَ مَكَرُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ یَّخْسِفَ اللّٰهُ بِهِمُ الْاَرْضَ اَوْ یَاْتِیَهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَ(45) || تو کیا جو لوگ بُرے مکر کرتے ہیں اس سے نہیں ڈرتے کہ اللہ انہیں زمین میں دھنسادے یا انہیں وہاں سے عذاب آئے جہاں سے انہیں خبر نہ ہو۔ ترجمہ: کنزالعرفان تو کیا بری سازشیں کرنے والے اس بات سے بے خوف ہوگئے کہ اللہ انہیں زمین میں دھنسا دے یا ان پر وہاں سے عذاب آئے جہاں سے انہیں خبر بھی نہ ہو۔ || تو کیا بری سازشیں کرنے والے اس بات سے بے خوف ہوگئے کہ اللہ انہیں زمین میں دھنسا دے یا ان پر وہاں سے عذاب آئے جہاں سے انہیں خبر بھی نہ ہو۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ النحل آیت 45 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{اَفَاَمِنَ:تو کیا بے خوف ہوگئے۔} اس آیت اورا س کے بعد والی دو آیات میں  اللّٰہ تعالیٰ نے کفارِ مکہ کو چار طرح کے عذابوں  سے ڈرایا ہے ۔ (1) زمین میں  دھنسادیئے جانے سے۔ (2) آسمان سے عذاب نازل کر دینے سے۔ (3) ایسی آفات سے جو یکبارگی ا س طرح آئیں  کہ ان کی علامات اور دلائل انہیں  معلوم نہ ہوں ۔ (4) ایسی آفات سے جو تھوڑی تھوڑی آئیں  یہاں  تک کہ ان کا آخری فرد بھی ہلاک ہو جائے۔ (تفسیرکبیر، النحل، تحت الآیۃ: ۴۵-۴۷، ۷ / ۲۱۲-۲۱۳)اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ کفارِ مکہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے صحابۂ کرام  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے خلاف سازشیں  کرتے ہیں  ، انہیں  ایذائیں  پہنچانے کی کوشش میں  رہتے ہیں   اور چھپ چھپ کر فساد پھیلانے کی تدبیریں  کرتے ہیں  ،کیا وہ ا س بات سے بے خوف ہو گئے ہیں  کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ انہیں  زمین میں  دھنسادے جیسے قارون کو دھنسادیا تھا یا ان پر آسمان سے اچانک عذاب نازل ہو جائے جیسے قومِ لوط پر ہو اتھا۔( روح البیان، النحل، تحت الآیۃ: ۴۵، ۵ / ۳۸، بیضاوی، النحل، تحت الآیۃ: ۴۵، ۳ / ۴۰۰، ملتقطاً)

             بعض مفسرین نے فرمایا کہ ’’مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَ(جہاں  سے انہیں  خبر بھی نہ ہو)‘‘ سے بدر کا دن مراد ہے کیونکہ کفار کے بڑے بڑے سردار اس دن ہلاک کر دئیے گئے اور ان کا حال یہ تھا کہ وہ اپنی ہلاکت کا گمان بھی نہ رکھتے تھے۔(تفسیر قرطبی، النحل، تحت الآیۃ: ۴۵، ۵ / ۷۹، الجزء العاشر)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now