Transliteration: (Aw yaakhuzahum 'alaa takhawwuf; fa inna Rabbakum la Ra'oofur Raheem)
{اَوْ یَاْخُذَهُمْ:یا انہیں پکڑلے ۔} اس آیت کا ایک معنی یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ شروع سے ہی انہیں عذاب میں گرفتار نہیں کرے گا بلکہ پہلے انہیں خوف میں مبتلا کرے گا پھر اس کے بعدانہیں عذاب میں گرفتار کر دے گا۔ خوف میں مبتلا کرنے کی صورت یہ ہو گی کہ اللّٰہ تعالیٰ ایک گروہ کو ہلاک کر دے گا تو اس کے قریب والے ا س خوف میں مبتلا ہو جائیں گے کہ کہیں ان پر بھی ویساہی عذاب نازل نہ ہو جائے۔ ایک طویل عرصہ تک وہ اس خوف اور وحشت میں مبتلا رہیں گے ، اس کے بعد ان پر عذاب نازل ہو گا۔دوسرا معنی یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ ان پر فوراًعذاب نازل نہیں کرے گا بلکہ ان کی جانوں اور مالوں کو تھوڑا تھوڑا کم کرتا رہے گا یہاں تک کہ سب ہلاک ہو جائیں گے ۔ (تفسیرکبیر، النحل، تحت الآیۃ: ۴۷،۷ / ۲۱۲-۲۱۳)
{فَاِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ:تو بیشک تمہارا رب نہایت مہربان رحمت والا ہے۔} یعنی اللّٰہ تعالیٰ چونکہ بہت مہربان اور رحمت والا ہے اس لئے وہ اکثر اُمور میں مہلت دے دیتا ہے ا ور عذاب نازل کرنے میں جلدی نہیں فرماتا۔(تفسیرکبیر، النحل، تحت الآیۃ: ۴۷، ۷ / ۲۱۳)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ النحل آیت 47 تفسیر