Transliteration: (Wallaahu anzala minas samaaa'i maaa'an fa ahyaa bihil arda ba'da mawtihaa; inna fee zaalika la aayatal liqaw miny yasma'oon (section 8))
{ وَ اللّٰهُ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً:اور اللّٰہ نے آسمان سے پانی اتارا۔} اس آیت سے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے پھر اپنی نعمتوں اور قدرت کے کمال کو بیان فرمایا ہے ، چنانچہ آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی اتارا تو اس کے ذریعے زمین کو خشک اور بے سبزہ ہونے کے بعد سرسبزی و شادابی بخش کر زندہ کردیا۔ یہ سب اللّٰہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ہے لیکن اس بات کو سمجھنا ان لوگوں کا کام ہے جو دل سے سنتے ہیں اورسن کر سمجھتے اور غور کرتے ہیں اور اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ جو قادر برحق زمین کو اس کی موت یعنی نَشو و نَما کی قوت فنا ہوجانے کے بعد پھر زندگی دیتا ہے وہ انسان کو اس کے مرنے کے بعد بے شک زندہ کرنے پر قادر ہے۔( قرطبی، النحل، تحت الآیۃ: ۶۵،۵ / ۸۸، الجزء العاشر، جلالین مع صاوی، النحل، تحت الآیۃ: ۶۵، ۳ / ۱۰۷۶، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ النحل آیت 65 تفسیر