قرآن - 16:63 سورہ النحل ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

63
تَٱللَّهِ لَقَدۡ أَرۡسَلۡنَآ إِلَىٰٓ أُمَمٖ مِّن قَبۡلِكَ فَزَيَّنَ لَهُمُ ٱلشَّيۡطَٰنُ أَعۡمَٰلَهُمۡ فَهُوَ وَلِيُّهُمُ ٱلۡيَوۡمَ وَلَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ

Transliteration: (Tallaahi laqad arsalnaaa ilaaa umamim min qablika fazayyana lahumush Shaitaanu a'maalahum fahuwa waliyyuhumul yawma wa lahum 'azaabun aleem)

ترجمہ: کنزالایمان - تَاللّٰهِ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰۤى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَزَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَهُوَ وَلِیُّهُمُ الْیَوْمَ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(63) || خدا کی قسم ہم نے تم سے پہلے کتنی امتوں کی طرف رسول بھیجے تو شیطان نے ان کے کوتک ان کی آنکھوں میں بھلے کر دکھائے تو آج وہی ان کا رفیق ہے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ ترجمہ: کنزالعرفان اللہ کی قسم! ہم نے تم سے پہلے کتنی امتوں کی طرف رسول بھیجے تو شیطان نے لوگوں کیلئے ان کے اعمال کو خوشنما بنادیا تو آج وہی ان کا ساتھی ہے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ || اللہ کی قسم! ہم نے تم سے پہلے کتنی امتوں کی طرف رسول بھیجے تو شیطان نے لوگوں کیلئے ان کے اعمال کو خوشنما بنادیا تو آج وہی ان کا ساتھی ہے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ النحل آیت 63 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{تَاللّٰهِ:اللّٰہ کی قسم!} اس آیت میں  اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی ذات کی قسم بیان کر کے اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ،ہم نے آپ سے پہلے سابقہ امتوں  کی طرف جتنے رسول بھیجے، انہوں  نے بھی آپ کی طرح اپنی امتوں  کو توحید کی دعوت دی، صرف ایک اللّٰہ کی عبادت کرنے کا کہا اور جھوٹے معبودوں  کو چھوڑ دینے کا حکم دیا جبکہ شیطان نے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ کفر کرنے اور بتوں  کی عبادت پر قائم رہنے کو ان کی نظروں  میں  خوشنما بنادیا  یہاں  تک کہ انہوں  نے اپنے رسولوں  عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلا یا اور اللّٰہ تعالیٰ کے اَحکامات کو رد کر دیا تو دنیا(یا آخرت) میں  شیطان ہی ان کاساتھی ہے اور وہ نہایت برا ساتھی ہے۔ قیامت کے دن جب یہ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں  حاضر ہوں  گے تو ا س وقت شیطان کی مدد انہیں  کوئی نفع نہ دے گی بلکہ اس وقت ان کے لئے دردناک عذاب ہو گا۔( تفسیرطبری، النحل، تحت الآیۃ: ۶۳، ۷ / ۶۰۵)

اللّٰہ تعالیٰ نے تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو تسلی دی :

ابو عبداللّٰہ محمد بن احمد قرطبی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں: اس آیت میں  اللّٰہ تعالیٰ اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو تسلی دے رہا ہے کہ( صرف آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی قوم نے ہی آپ کو نہیں  جھٹلایا بلکہ) آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے پہلے انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو بھی ان کی امتوں  نے جھٹلایا تھا۔(قرطبی، النحل، تحت الآیۃ: ۶۳، ۵ / ۸۷، الجزء العاشر)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now