Transliteration: (Wallaahu akhrajakum mim butooni ummahaatikum laa ta'lamoona shai'anw wa ja'ala lakumus sam'a wal absaara wal af'idata la'allakum tashkuroon)
{وَ اللّٰهُ اَخْرَجَكُمْ:اور اللّٰہ نے تمہیں پیدا کیا ۔} اس آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی قدرت پر دلالت کرنے والے مزید مَظاہِر بیان فرمائے، اور وہ یہ کہ اللّٰہ تعالیٰ نے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے اس حال میں پیدا کیا کہ تم کچھ نہ جانتے تھے اور اپنی پیدائش کی ابتداء اور اوّل فِطرت میں علم و معرفت سے خالی تھے، پھر اللّٰہ تعالیٰ نے تمہارے کان ، آنکھیں اور دل بنائے، یہ حواس ا س لئے عطا کیے تا کہ تم ان سے اپنا پیدائشی جہل دور کرو اور تم شکر گزار بنو، علم و عمل سے فیض یاب ہو جاؤ اور یہ حواس اس لئے عطا کئے تاکہ تم نعمتیں عطا کرنے والے کا شکر بجالاؤ اور اس کی عبادت میں مشغول ہوجاؤ اور اس کی نعمتوں کے حقوق ادا کرو۔( مدارک، النحل، تحت الآیۃ: ۷۸، ص۶۰۴، خازن، النحل، تحت الآیۃ: ۷۸، ۳ / ۱۳۶، ملتقطاً) لہٰذا ہر عضو کا ’’شکر‘‘ یہ ہے کہ اسے اللّٰہ تعالیٰ کی اطاعت میں لگایا جائے اور ناشکری یہ ہے کہ اس عضو کو اللّٰہ تعالیٰ کی نافرمانی میں استعمال کیا جائے۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ النحل آیت 78 تفسیر