Transliteration: (Wa yawma nab'asu min kulli ummatin shaheedan summa laa yu'zanu lillazeena kafaroo wa laa hum yusta'taboon)
{وَ یَوْمَ نَبْعَثُ:اور یاد کروجس دن ہم اٹھائیں گے۔} اس سے پہلی آیتوں میں اللّٰہ تعالیٰ نے کفار کے بارے میں بیان فرمایا کہ انہوں نے اللّٰہ تعالیٰ کی نعمتوں کو پہچاننے کے باوجود ان کا انکار کر دیا، اور یہ بھی بیان فرمایا کہ ان میں سے اکثر کافر ہیں جبکہ ان آیتوں میں اللّٰہ تعالیٰ نے ان کفار پر عذاب کی وعید اور قیامت کے دن ان کا جو حال ہو گا اسے بیان فرمایا۔ آیت کاخلاصہ یہ ہے کہ جب قیامت کے دن ہم ہر امت سے ایک گواہ اٹھائیں گے جو اُن کی تصدیق و تکذیب اور ایمان و کفر کی گواہی دے گا اور یہ گواہ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہیں ، پھر کافروں کومعذرت کرنے کی یا کسی کلام کی یا دنیا کی طرف لوٹنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ ا س دن انہیں ا س بات کا مُکَلَّف کیا جائے گا کہ وہ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کو راضی کریں کیونکہ آخرت عمل کرنے کی جگہ نہیں ۔( خازن، النحل، تحت الآیۃ: ۸۴، ۳ / ۱۳۸، مدارک، النحل، تحت الآیۃ: ۸۴، ص۶۰۵، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ النحل آیت 84 تفسیر