قرآن - 16:84 سورہ النحل ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

84
وَيَوۡمَ نَبۡعَثُ مِن كُلِّ أُمَّةٖ شَهِيدٗا ثُمَّ لَا يُؤۡذَنُ لِلَّذِينَ كَفَرُواْ وَلَا هُمۡ يُسۡتَعۡتَبُونَ

Transliteration: (Wa yawma nab'asu min kulli ummatin shaheedan summa laa yu'zanu lillazeena kafaroo wa laa hum yusta'taboon)

ترجمہ: کنزالایمان - وَ یَوْمَ نَبْعَثُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا ثُمَّ لَا یُؤْذَنُ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ(84) || اور جس دن ہم اٹھائیں گے ہر امت میں سے ایک گواہ پھر کافروں کو نہ اجازت ہو نہ وہ منائے جائیں ۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور یاد کروجس دن ہم ہر امت سے ایک گواہ اٹھائیں گے پھر کافروں کو اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ ان سے رجوع کرنا،طلب کیا جائے گا۔ || اور یاد کروجس دن ہم ہر امت سے ایک گواہ اٹھائیں گے پھر کافروں کو اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ ان سے رجوع کرنا،طلب کیا جائے گا۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ النحل آیت 84 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ یَوْمَ نَبْعَثُ:اور یاد کروجس دن ہم اٹھائیں  گے۔} اس سے پہلی آیتوں  میں  اللّٰہ تعالیٰ نے کفار کے بارے میں  بیان فرمایا کہ انہوں  نے اللّٰہ تعالیٰ کی نعمتوں  کو پہچاننے کے باوجود ان کا انکار کر دیا، اور یہ بھی بیان فرمایا کہ ان میں  سے اکثر کافر ہیں  جبکہ ان آیتوں  میں  اللّٰہ تعالیٰ نے ان کفار پر عذاب کی وعید اور قیامت کے دن ان کا جو حال ہو گا اسے بیان فرمایا۔ آیت کاخلاصہ یہ ہے کہ جب قیامت کے دن ہم ہر امت سے ایک گواہ اٹھائیں  گے جو اُن کی تصدیق و تکذیب اور ایمان و کفر کی گواہی دے گا اور یہ گواہ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہیں  ، پھر کافروں  کومعذرت کرنے کی یا کسی کلام کی یا دنیا کی طرف لوٹنے کی اجازت نہیں  دی جائے گی اور نہ ا س دن انہیں  ا س بات کا مُکَلَّف کیا جائے گا کہ وہ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کو راضی کریں  کیونکہ آخرت عمل کرنے کی جگہ نہیں ۔( خازن، النحل، تحت الآیۃ: ۸۴، ۳ / ۱۳۸، مدارک، النحل، تحت الآیۃ: ۸۴، ص۶۰۵، ملتقطاً)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now