Transliteration: (A'indahoo 'ilmul ghaibi fahuwa yaraa)
{ اَعِنْدَهٗ عِلْمُ الْغَیْبِ: کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے۔} اس آیت کامعنی یہ ہے کہ کیا اس شخص کے پاس غیب کا علم ہے جس کے ساتھی نے اس کے اُخروی عذاب کو اپنے ذمے لیا ہے اور ا س غیب کے علم کی بنا پر اسے معلوم ہو گیا ہے کہ واقعی اس کا ساتھی اس کے گناہوں کا بوجھ اٹھا لے گا اور ا س کے اُخروی عذاب کو اپنے ذمے لے لے گا۔ایساہر گز نہیں ہے۔(جلالین، النجم، تحت الآیۃ: ۳۵، ص۴۳۹، تفسیر طبری، النجم، تحت الآیۃ: ۳۵، ۱۱ / ۵۳۱-۵۳۲، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ النجم آیت 35 تفسیر