قرآن - 53:7 سورہ النجم ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

7
وَهُوَ بِٱلۡأُفُقِ ٱلۡأَعۡلَىٰ

Transliteration: (Wa huwa bil ufuqil a'laa)

ترجمہ: کنزالایمان - وَ هُوَ بِالْاُفُقِ الْاَعْلٰىﭤ(7) || اور وہ آسمانِ بریں کے سب سے بلند کنارہ پر تھا۔ ترجمہ: کنزالعرفان اس حال میں کہ وہ آسمان کے سب سے بلند کنارہ پر تھے۔ || اس حال میں کہ وہ آسمان کے سب سے بلند کنارہ پر تھے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ النجم آیت 7 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{ وَ هُوَ بِالْاُفُقِ الْاَعْلٰى: اس حال میں  کہ وہ آسمان کے سب سے بلند کنارہ پر تھے۔} یہاں  بھی عام مفسرین اسی طرف گئے ہیں  کہ یہ حال جبریلِ امین عَلَیْہِ السَّلَام کا ہے لیکن امام رازی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں  کہ ظاہر یہ ہے کہ یہ حال تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ہے کہ آپ اُفُقِ اعلیٰ یعنی آسمانوں  کے اوپر تھے، اور (اس کی دلیل یہ ہے کہ) جس طرح کہنے والا کہتا ہے کہ میں  نے چھت پر چاند دیکھا یاپہاڑ پر چاند دیکھا، تواس بات کے یہ معنی نہیں  ہوتے کہ چاند چھت پر یا پہاڑ پر تھا بلکہ یہی معنی ہوتے ہیں  کہ دیکھنے والا چھت یا پہاڑ پر تھا، اسی طرح یہاں بھی مراد یہ ہے کہ حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ آسمانوں  کے اوپر پہنچے تو اللہ تعالیٰ کی تجلی آپ کی طرف متوجہ ہوئی۔( تفسیر کبیر، النجم، تحت الآیۃ: ۷، ۱۰ / ۲۳۸)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now