قرآن - 27:34 سورہ النمل ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

34
قَالَتۡ إِنَّ ٱلۡمُلُوكَ إِذَا دَخَلُواْ قَرۡيَةً أَفۡسَدُوهَا وَجَعَلُوٓاْ أَعِزَّةَ أَهۡلِهَآ أَذِلَّةٗۚ وَكَذَٰلِكَ يَفۡعَلُونَ

Transliteration: (Qaalat innal mulooka izaa dakhaloo qaryatan afsadoohaa wa ja'alooo a'izzata ahlihaaa azillah; wa kazaalika yaf'aloon)

ترجمہ: کنزالایمان - قَالَتْ اِنَّ الْمُلُوْكَ اِذَا دَخَلُوْا قَرْیَةً اَفْسَدُوْهَا وَ جَعَلُوْۤا اَعِزَّةَ اَهْلِهَاۤ اَذِلَّةًۚ-وَ كَذٰلِكَ یَفْعَلُوْنَ(34) || بولی بیشک جب بادشاہ کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں اسے تباہ کردیتے ہیں اور اس کے عزت والوں کو ذلیل اور ایسا ہی کرتے ہیں ۔ ترجمہ: کنزالعرفان اس نے کہا: بیشک بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں تواسے تباہ کردیتے ہیں اور اس کے عزت والوں کوذلیل کردیتے ہیں اور وہ ایسا ہی کرتے ہیں ۔ || اس نے کہا: بیشک بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں تواسے تباہ کردیتے ہیں اور اس کے عزت والوں کوذلیل کردیتے ہیں اور وہ ایسا ہی کرتے ہیں ۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ النمل آیت 34 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{قَالَتْ: اس نے کہا۔} جب بلقیس نے دیکھا کہ یہ لوگ جنگ کی طرف مائل ہیں  تو اُس نے انہیں  اُن کی رائے کی خطا پر آگاہ کیا اور جنگ کے نتائج سامنے رکھتے ہوئے کہا کہ ’’ جب بادشاہ کسی بستی میں  اپنی قوت اور طاقت سے داخل ہوتے ہیں  تواسے تباہ کردیتے ہیں  اور اس کے عزت والوں  کو قتل کر کے، قیدی بنا کراور ان کی توہین کر کے انہیں  ذلیل کردیتے ہیں  یہی بادشاہوں  کا طریقہ ہے۔ ملکہ بلقیس چونکہ بادشاہوں  کی عادت جانتی تھی اِس لئے اُس نے یہ کہا اور اُس کی مراد یہ تھی کہ جنگ مناسب نہیں  ہے، اس میں  ملک اور اہلِ ملک کی تباہی و بربادی کا خطرہ ہے۔(مدارک، النمل، تحت الآیۃ: ۳۴، ص۸۴۵، ملخصاً)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now