قرآن - 27:38 سورہ النمل ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

38
قَالَ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلۡمَلَؤُاْ أَيُّكُمۡ يَأۡتِينِي بِعَرۡشِهَا قَبۡلَ أَن يَأۡتُونِي مُسۡلِمِينَ

Transliteration: (Qaala yaaa aiyuhal mala'u aiyukum yaateenee bi'arshihaa qabla ai yaatoonee muslimeen)

ترجمہ: کنزالایمان - قَالَ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَیُّكُمْ یَاْتِیْنِیْ بِعَرْشِهَا قَبْلَ اَنْ یَّاْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ(38) || سلیمان نے فرمایا اے درباریوتم میں کون ہے کہ وہ اس کا تخت میرے پاس لے آئے قبل اس کے کہ وہ میرے حضور مطیع ہوکر حاضر ہوں ۔ ترجمہ: کنزالعرفان سلیمان نے فرمایا: اے درباریو!تم میں کون ہے جو ان کے میرے پاس فرمانبردار ہوکر آنے سے پہلے اس کا تخت میرے پاس لے آئے۔ || سلیمان نے فرمایا: اے درباریو!تم میں کون ہے جو ان کے میرے پاس فرمانبردار ہوکر آنے سے پہلے اس کا تخت میرے پاس لے آئے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ النمل آیت 38 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{قَالَ: فرمایا۔} جب بلقیس اتناقریب پہنچ گئی کہ حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے صرف ایک فرسنگ (یعنی تین میل) کا فاصلہ رہ گیا تو حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا: اے درباریو!تم میں  سے کون ہے جو ان لوگوں  کے میرے پاس فرمانبردار ہوکر آنے سے پہلے بلقیس کا تخت میرے پاس لے آئے۔تخت منگوانے سے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا مقصود یہ تھا کہ اس کا تخت حاضر کرکے اسے اللہ تعالٰی کی قدرت اور اپنی نبوت پر دلالت کرنے والا معجزہ دکھادیں ۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے چاہا کہ بلقیس کے آنے سے پہلے اس تخت کی وضع بدل دیں  اور اس سے اس کی عقل کا امتحان فرمائیں  کہ وہ اپنا تخت پہچان سکتی ہے یا نہیں ۔(خازن، النمل، تحت الآیۃ: ۳۸، ۳ / ۴۱۲، مدارک، النمل، تحت الآیۃ: ۳۸، ص۸۴۷، ملتقطاً)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now