Transliteration: (Wa mai yushaaqiqir Rasoola mim ba'di maa tabaiyana lahul hudaa wa yattabi' ghaira sabeelil mu'mineena nuwallihee ma tawallaa wa nuslihee Jahannama wa saaa'at maseeraa)
{وَ مَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ: اور جو رسول کی مخالفت کرے۔} اس آیت میں دو چیزوں سے منع کیا گیاہے جو حقیقت میں ایک ہیں۔ پہلی چیز کہ رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مخالفت جائز نہیں اور دوسری بات کہ مسلمانوں کے راستے سے ہٹ کر چلنا جائز نہیں کیونکہ مسلمانوں کا راستہ اطاعت ِ رسول کا راستہ ہے تو اس سے ہٹنا اطاعتِ رسول سے ہٹنا ہوگا۔
یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ مسلمانوں کا اجماع و اتفاق حجت و دلیل ہے اور اس کی مخالفت جائز نہیں جیساکہ کتاب و سنت کی مخالفت جائز نہیں۔(مدارک، النساء، تحت الآیۃ: ۱۱۵، ص۲۵۳)
نیز اس سے ثابت ہوا کہ مسلمانوں کا راستہ ہی صراطِ مستقیم ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ جماعت پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ہاتھ ہے۔(نسائی، کتاب تحریم الدم، قتل من فارق الجماعۃ۔۔۔ الخ، ص۶۵۶، الحدیث: ۴۰۲۷)ایک اور حدیث میں ہے کہ سوادِ اَعْظَم یعنی بڑی جماعت کی پیروی کرو جو اس گروہ سے جدا ہوا وہ جہنم میں گرا۔ (مستدرک، کتاب العلم، من شذّ شذّ فی النار، ۱ / ۳۱۷، الحدیث: ۴۰۳)
اس سے واضح ہے کہ حق مذہب اہلِ سنت و جماعت ہے کیونکہ یہی مسلمانوں کی اکثریت کا ہے اور یہی بڑی جماعت ہے۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ النساء آیت 115 تفسیر