قرآن - 4:116 سورہ النساء ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

116
إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَغۡفِرُ أَن يُشۡرَكَ بِهِۦ وَيَغۡفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَآءُۚ وَمَن يُشۡرِكۡ بِٱللَّهِ فَقَدۡ ضَلَّ ضَلَٰلَۢا بَعِيدًا

Transliteration: (Innal laaha laa yaghfiru ai yushraka bihee wayaghfiru maa doona zaalika limai yashaaa'; wa mai yushrik billaahi faqad dalla dalaalam ba'eedaa)

ترجمہ: کنزالایمان - اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُؕ-وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا(116) || اللہ اسے نہیں بخشتا کہ اس کا کوئی شریک ٹھہرایا جائے اور اس سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرما دیتا ہے اور جو اللہ کا شریک ٹھہرائے وہ دور کی گمراہی میں پڑا۔ ترجمہ: کنزالعرفان اللہ اس بات کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جائے اور اس سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرما دیتا ہے اور جو اللہ کا شریک ٹھہرائے وہ دور کی گمراہی میں جا پڑا۔ || اللہ اس بات کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جائے اور اس سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرما دیتا ہے اور جو اللہ کا شریک ٹھہرائے وہ دور کی گمراہی میں جا پڑا۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ النساء آیت 116 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ: اللہ شرک کو نہیں بخشے گا۔}اِس آیت کے شانِ نزول کے بارے میں حضرت عبداللہ بن عباس  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما کا قول ہے کہ یہ آیت ایک بوڑھے اَعرابی کے حق میں نازل ہوئی جس نے سیّدُالانبیاء صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا، یا نبیَّ اللہ! میں بوڑھا ہوں ، گناہوں میں غرق ہوں ، اس کے سوا کہ جب سے میں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کو پہچانا اور اس پر ایمان لایا ہوں اس وقت سے کبھی میں نے اس کے ساتھ شرک نہیں کیا اور اس کے سوا کسی اور کو کارسازِ حقیقی نہیں بنایا اور جرأ ت و دلیری کے ساتھ گناہوں میں مبتلانہ ہوا اور ایک پل بھی میں نے یہ گمان نہ کیا کہ میں اللہ عَزَّوَجَلَّ  سے بھاگ سکتا ہوں ، میں شرمندہ ہوں ، تائب ہوں ، مغفرت چاہتا ہوں ،اللہ عَزَّوَجَلَّ کے یہاں میرا کیا حال ہوگا؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (خازن، النساء، تحت الآیۃ: ۱۱۶، ۱ / ۴۳۰)

آیت’’ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ‘‘ سے معلوم ہونے والے مسائل:

(1) …یہ آیت اس بات کی قطعی دلیل ہے کہ شرک نہیں بخشا جائے گا جبکہ مشرک اپنے شرک پر مرے اور یہی حکم کفر کا ہے بلکہ علماء نے یہاں شرک سے مراد کفر لیا ہے۔ ہاں کافر و مشرک زندگی میں توبہ کرے تواس کی توبہ یقیناً مقبول ہے ۔

(2)…آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ گناہِ کبیرہ ، حقوقُ اللہ اورحقوقُ العِباد تمام گناہ قابلِ مغفرت ہیں اگرچہ حقوقُ العِبادکی مغفرت کا طریقہ یہ ہوگا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ حق العبدصاحب ِحق سے معاف کرا دے گا۔

(3)…یہ بھی معلوم ہوا کہ کفر و شرک کے علاوہ گناہوں کی بخشش یقینی نہیں بلکہ امید ہے کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے فرمایا کہ جسے چاہے بخشے۔ اب اللہ عَزَّوَجَلَّ کسے چاہے گا یہ معلوم نہیں لہٰذا یہ آیت گناہ پر دلیر نہیں کرتی بلکہ گناہ سے روکتی ہے۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now