Transliteration: (Rusulam mubashshireena wa munzireena li'allaa yakoona linnaasi 'alal laahi hujjatum ba'dar Rusul; wa kaanallaahu 'Azeezan Hakeema)
{رُسُلًا مُّبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ: رسول بھیجے خوشخبری دیتے اور ڈر سناتے۔} رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تشریف آوری کا مقصد نیک اعمال پر ثواب کی بشارت اور برے اعمال پرعذاب سے ڈرانا ہے اور ایک حکمت یہ ہے کہ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تشریف آوری کے بعد لوگوں کو یہ کہنے کا موقع نہ مل سکے کہ اگر ہمارے پاس رسول آتے تو ہم ضرور ان کا حکم مانتے اوراللہ عَزَّوَجَلَّ کے مطیع و فرمانبردار ہوتے۔ اس آیت سے یہ مسئلہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ رسولوں کی بعثت سے پہلے مخلوق پر عذاب نہیں فرماتا جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد فرمایا:
وَ مَا كُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا(۱۵)(بنی اسرائیل:۱۵)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہم کسی کو عذاب دینے والے نہیں ہیں جب تک کوئی رسول نہ بھیج دیں۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ النساء آیت 165 تفسیر