Transliteration: (Innal lazeena kafaroo wa saddoo 'an sabeelil laahi qad dalloo dalaalam ba'eedaa)
{اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا: بیشک جنہوں نے کفر کیا۔} یہاں یہودیوں کی حالت کا بیان ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نبوت کا انکار کیا اورحضور تاجدارِ انبیاءصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نعت وصفت چھپا کر اور لوگوں کے دلوں میں شبہ ڈال کر لوگوں کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ سے روکا، بے شک وہ ان حرکتوں کی وجہ سے دور کی گمراہی میں جا پڑے کیونکہ ان میں گمراہ ہونا اور گمراہ کرنا دونوں چیزیں جمع ہو گئیں۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ النساء آیت 167 تفسیر