Transliteration: (Famaa lakum fil munaafiqeena fi'ataini wallaahu arkasahum bimaa kasaboo; A' tureedoona an tahdoo man adallal laahu wa many yudli lillaahu falan tajida lahoo sabeelaa)
{فَمَا لَكُمْ فِی الْمُنٰفِقِیْنَ فِئَتَیْنِ: تو تمہیں کیا ہوا کہ منافقوں کے بارے میں دو گروہ ہوگئے ؟ }اس آیت کاشانِ نزول یہ ہے کہ منافقین کی ایک جماعت کھلم کھلا مرتد ہوکر مشرکین سے جاملی۔ ان کے بارے میں صحابۂ کرام رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے دوگروہ ہوگئے ۔ایک فرقہ ان کو قتل کرنے پراصرار کررہا تھا اور ایک اُن کے قتل سے انکار کرتا تھا۔ اس معاملہ میں یہ آیت نازل ہوئی۔(مدارک، النساء، تحت الآیۃ: ۸۸، ص۲۴۳)
اور فرمایا کہ اے ایمان والو! تمہیں کیا ہوگیا کہ تم منافقوں کے بارے میں دو گروہ بن گئے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ارتداد اور مشرکوں کے ساتھ جاملنے کی وجہ سے ان کے دلوں کو الٹا دیا ہے، کیا تم یہ چاہتے ہو کہ جسے اللہ تعالیٰ نے گمراہ کردیا اسے ہدایت کی راہ دکھا دو! یہ محال ہے کیونکہ جسے اللہ تعالیٰ گمراہ کر دے تو تم اس کے لئے ہدایت کاکوئی راستہ نہ پاؤ گے۔(روح البیان،النساء ، تحت الایۃ : ۸۸،۲ / ۲۵۶)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ النساء آیت 88 تفسیر