Transliteration: (Illal lazeena yasiloona ilaa qawmim bainakum wa bainahum meesaaqun aw jaaa'ookum hasirat sudooruhum ai yuqaatilookum aw yuqaatiloo qawmahum, wa law shaaa'al laahu lasallatahum 'alaikum falaqaatalookum; fa ini' tazalookum falam yuqaatilookum wa alqaw ilaikumus salama famaa ja'alal laahu lakum 'alaihim sabeelaa)
{اِلَّا الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ اِلٰى قَوْمٍ: مگر جو ایسی قوم سے تعلق رکھتے ہوں۔ }گزشتہ آیت میں قتل کا حکم دیا گیا تھا، اب فرمایا جارہا ہے کہ کچھ لوگ اس حکم سے خارج ہیں ، وہ یہ ہیں :
(1)…وہ لوگ جن کا ایسی قوم سے تعلق ہو جن سے تمہارا امن کا معاہدہ ہوچکا ہو۔
(2)…وہ لوگ جو تم سے لڑائی نہ کریں۔
(3)…وہ لوگ جوتمہارے ساتھ مل کر اپنی قوم سے لڑیں۔ ان سب لوگوں کو قتل کرنے کی اجازت نہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنا مزید احسان بیان فرمایا کہ اگراللہ عَزَّوَجَلَّ چاہتا تو ضرور انہیں تم پر مُسلَّط کر دیتا تو وہ بے شک تم سے لڑتے اور تم پر غالب بھی آجاتے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا اور مسلمانوں کو ان کے شر سے محفوظ رکھا۔
{فَاِنِ اعْتَزَلُوْكُمْ: پھر اگر وہ تم سے دور رہیں۔} یہاں فرمایا کہ اگر کفار تم سے دور رہیں اور نہ لڑیں بلکہ صلح کا پیغام بھیجیں تو اس صورت میں تمہیں اجازت نہیں کہ تم ان سے جنگ کرو۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ یہ آیت منسوخ ہے اور اب اسلامی سلطان کو صلح کرنے، نہ کرنے کا اختیار ہے۔(جمل، النساء، تحت الآیۃ: ۹۰، ۲ / ۹۹، خازن، النساء، تحت الآیۃ: ۹۰، ۱ / ۴۱۲، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ النساء آیت 90 تفسیر