قرآن - 55:25 سورہ الرحمن ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

25
فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

Transliteration: (Fabi ayyi aalaaa'i Rabbikumaa tukazzibaan.)

ترجمہ: کنزالایمان - وَ لَهُ الْجَوَارِ الْمُنْشَــٴٰـتُ فِی الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِ(24)فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ(25) || اور اسی کی ہیں وہ چلنے والیاں کہ دریا میں اٹھی ہوئی ہیں جیسے پہاڑ۔ تو اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤ گے۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور دریا میں پہاڑوں جیسی اٹھی ہوئی کشتیاں اسی کی ہیں ۔ توتم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ || اور دریا میں پہاڑوں جیسی اٹھی ہوئی کشتیاں اسی کی ہیں ۔ توتم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الرحمن آیت 25 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ لَهُ الْجَوَارِ الْمُنْشَــٴٰـتُ فِی الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِ: اور دریا میں  پہاڑوں  جیسی اٹھی ہوئی کشتیاں  اسی کی ہیں ۔} یعنی جن چیزوں  سے وہ کشتیاں  بنائی گئیں  وہ بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا کیں  اور ان کو ترکیب دینے اور کشتی بنانے اور کاریگری کرنے کی عقل بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا کی اور دریاؤں میں  ان کشتیوں  کا چلنا اور تیرنا یہ سب اللہ تعالیٰ کی قدرت سے ہے۔(ابو سعود، الرحمٰن، تحت الآیۃ: ۲۴، ۵ / ۶۶۳)

{فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ: توتم دونوں  اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟} یعنی اے جن اور انسان کے گروہ !اللہ تعالیٰ نے تمہارے فائدے کے لئے سمندر میں  (پہاڑوں  کی مانند) بڑی بڑی کشتیاں  جاری فرما کر تم پر جو انعام فرمایا ،تم ان نعمتوں  میں  سے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟( تفسیر طبری، الرحمٰن، تحت الآیۃ: ۲۵، ۱۱ / ۵۹۱)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now