قرآن - 55:51 سورہ الرحمن ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

51
فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

Transliteration: (Fabi ayyi aalaaa'i Rabbikumaa tukazzibaan.)

ترجمہ: کنزالایمان - فِیْهِمَا عَیْنٰنِ تَجْرِیٰنِ(50)فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ(51) || ان میں دو چشمے بہتے ہیں ۔ تو اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤ گے۔ ترجمہ: کنزالعرفان ان میں دو چشمے بہہ رہے ہیں ۔ توتم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ || ان میں دو چشمے بہہ رہے ہیں ۔ توتم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الرحمن آیت 51 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{فِیْهِمَا عَیْنٰنِ تَجْرِیٰنِ: ان میں  دو چشمے بہہ رہے ہیں ۔} یہاں  ان جنتوں  کا ایک اور وصف بیان ہوا کہ ان میں  سے ہر ایک جنت میں صاف اور میٹھے پانی کے دو چشمے بہہ رہے ہیں ،ان میں  سے ایک کانام تسنیم اور دوسرے کا نام سَلسَبیل ہے۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ ایک چشمہ خراب نہ ہونے والے پانی کا ہے اور ایک چشمہ ایسی شراب کا ہے جو پینے والوں  کے لئے لذّت بخش ہے۔( صاوی، الرحمٰن، تحت الآیۃ: ۵۰، ۶ / ۲۰۸۲)

{فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ: توتم دونوں  اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟} یعنی اے جن اور انسان کے گروہ!اللہ تعالیٰ نے تمہیں  یہ چشمے عطا کر کے تمہاری نعمت میں  اضافہ فرمایا تو تم اس کی قدرت اور نعمت کا انکار کیسے کر سکتے ہو اور تم دونوں  اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟ (تفسیر سمرقندی، الرحمٰن، تحت الآیۃ: ۵۱، ۳ / ۳۱۰)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now